حکیم شیخ بو علی سینا اور ایک بزرگ
ایک بزرگ ولی اﷲ نے شیخ بو علی سینا سے فرمایا کہ تو نے علوم عقلیہ اور فلسفہ میں اپنی ساری عمر برباد کی ۔۔۔۔ آخر کس مرتبہ تک تو پہنچا؟
شیخ بو علی سینا نے فرمایا کہ دن میں مجھے ایک ایسی گھڑی اور ساعت کا علم ہے کہ اس گھڑی میں لوہا آٹے کی طرح نرم ہوجاتا ہے ۔۔۔۔ بزرگ نے فرمایا جب وہ ٹائم اور گھڑی آئے تو مجھے بتانا ۔۔۔۔ چنانچہ شیخ بو علی سینا ؒ نے وہ گھڑی بتادی اور ہاتھ میں لوہا لے کر اس میں انگلی داخل کردی ۔۔۔۔ تو انگلی اس کے اندر دھنس گئی ۔۔۔۔ وہ ٹائم اور گھڑی گزر جانے پر اس بزرگ نے شیخ بو علی سینا سے فرمایا کہ اب پھر اسی طرح لوہے کے اندر انگلی داخل کرو ۔۔۔۔ شیخ بو علی سینا نے کہا وہ گھڑی گزر چکی ہے اب ممکن نہیں تو اس بزرگ نے لوہا ہاتھ میں لے کر کرامت سے اپنی انگلی اس میں داخل کردی اور فرمایا کہ عقلمند کے لئے یہ مناسب نہیں ہے ۔۔۔۔ کہ وہ اپنی عمر عزیز ایسی بے کار چیزوں میں تباہ کردے یہ کوئی کمال نہیں ۔۔۔۔ کمال یہ ہے کہ آخرت کے لئے بندہ محنت کرے اور اپنے اﷲ کو راضی کرلے ۔۔۔۔ شیخ بو علی سینا اس سے بہت متاثر ہوا ۔۔۔۔ اور اس کی زندگی میں تبدیلی آگئی ۔۔۔۔ مرض الموت میں دل سے توبہ کی اپنا مال فقراء پر صدقہ کیا اپنے تمام حقوق ادا کردیئے ۔۔۔۔ اور کثرت کے ساتھ تلاوت کرنے لگے ۔۔۔۔ چنانچہ ہر تیسرے دن ایک قرآن کریم ختم کرتے تھے اور جب اس کا انتقال ہوا تو صحیح بخاری شریف اس کے سینے پر پڑی تھی ۔۔۔۔ (ظفر المحصلین )
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

