حکیم سقراط کا سبق آموز واقعہ
سقراط کا ایک بہت بڑا حکیم تھااور گویا ایک درجہ میں طب کا موجد سمجھا جاتا ہے اور رات دن پہاڑوں میں جڑی بوٹیوں کا امتحان کرتا تھا سارا دن گھومتے گھامتے ایک دن آیا ایک دکان پر بیٹھا دن بھر کا تھکا ہوا تھا اس کے آنکھ لگ گئی پیر توزمین پر رکھے ہوئے ہیں اور بیٹھا ہوا ہے کان کے تختے پر اور نیند آ گئی بادشاہ وقت کی سواری نکل رہی تھی نقیب و چوبدار ہٹو بچو کہتے جا رہے ہیں اور اس بیچارے کو کچھ خبر نہیں یہاں تک کہ بادشاہ کی سواری قریب آ گئی تو بادشاہ کو ناگوار گزرا کہ پبلک کا ایک آدمی اور پیر پھلائے ہوئے بیٹھا ہے۔ نہ بادشاہ کی تعظیم ہے نہ عظمت ہے بڑا بے ادب گستاخ بادشاہ کو اتنا جذبہ آیا کہ سواری سے اتر کر اس کو ایک ٹھوکر ماری زور سے اب سقراط کی آنکھ کھلی اور آنکھ مل کے دیکھنے لگا اور بادشاہ نے کہا کہ جانتا بھی ہے تو کہ میں کون ہوں اس نے کہا جی ہاں میں یہی جاننے کی کوشش کر رہا ہوں کہ آپ کون ہیںاور اب تک اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ شاید آپ جنگل کے کوئی درندے معلوم ہوتے ہیں اس لئے کہ آپ نے ٹھوکر ماری ہے اور وہی ٹھوکر مار کر چلتے ہیں۔ بادشاہ کو اور زیادہ ناگوار گزرا اس سے کہا کہ تو جانتا نہیں کہ میں بادشاہ وقت ہوں۔ میرے ہاتھ میں اتنے خزانے ہیں۔ اتنی فوجیں ہیں اتنے سپاہ ہیں اتنے قلعے ہیں اتنے شہر ہیں میرے قابو میں‘ سقراط نے بڑی متانت سے کہا کہ بندئہ خدا تو نے اپنی بڑائی کے لئے پیش کیا فوجوں کو‘ ہتھیاروں کو‘ خزانوں کو‘ روپے کو پیسے کو ان میں سے ایک چیز بھی تیرے اندر کی تو نہیں ہے۔ سب باہر ہی باہر کی چیزیں ہیں تیرے اندر کیا کمال ہے جس کی وجہ سے تو دعویٰ کرے کہ تو باکمال ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روپے پیسے نے تجھے چھوڑ دیا بس تو ذلیل ہو گیا اب تیری عزت ختم ہو گئی تاج و تخت اتفاق سے پاس نہ ہو تو بس تو ذلیل ہو گیا۔ فوجیں اگر کہیں رہ جائیں اور تو شکار میں آگے بڑھ جائے تو ذلیل ہے اس لئے کہ فوج تو ہے ہی نہیں یہ کیا عزت ہوئی کہ اندر کچھ نہیں اور بیرونی چیزوں پر مدار کار رکھے ہوئے ہے۔ تیرے اندر کی کیا چیز ہے نہ فوجیں تیرے اندر کی ہیں نہ تاج و تخت تیرے اندر کا ہے تو اگر اپنا کمال بتلاتا ہے اور بڑائی بتلاتا ہے تو اندر کا کمال پیش کر اگر تیرے اندر واقعی کوئی کمال ہے اب وہ بیچارہ بادشاہ بھی حیران ہوا کہ واقعی بات سچی ہے جواب دے نہ سکا اس نے کہا کہ اگر تجھے کمال دکھلانا ہے تو ایک لنگی باندھ اور کپڑے اتار اور میں بھی لنگی باندھتا ہوں اور کپڑے اتار کر اس دریا میں کودتے ہیں اور وہاں اپنے اپنے کمالات دکھلائیں گے۔ اس وقت معلوم ہو گا کہ تو باکمال ہے یا میںباکمال ہوں تو گویا سقراط نے بتلایا کہ کمال حقیقت میں جس پر آدمی فخر کرے و ہ اندرونی کمال ہے اندر تو کمال نہ ہوا اور باہر کی چیزوں پر فخر کرے وہ ہمیشہ جدا ہونے والی چیزیں ہیں وہ جدا ہوگئیں تو بے کمال ہو گیا۔ ذلیل ہو گیا یہ کیا کمال ہے۔ (از خطبات طیب شمارہ ۱۰۰)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

