حکمت بھری نصیحت
پٹیالہ شہر میں جلسہ تھا ۔حضرت امیر شریعت سید عطا ء اللہ شاہ بخاری رحمتہ اللہ علیہ جلسہ سے خطاب کرنے وہاں پہنچے ۔جلسہ ایک بڑی عمارت کی چھت پر تھا ۔اس کی سیڑھیاں بہت بڑی تھیں ۔شاہ جی رحمہ اللہ جلسہ گاہ میں جانے کے لئے سیڑھیاں عبور کررہے تھے ۔دیکھا تو ایک نوجوان ہاتھ میں جھاڑو لئے ہوئے سیڑھیوں سے نیچے اتررہا ہے شاہ جی رحمہ اللہ نے دریافت فرمایا :’’ برخوردار !کون ہو؟‘‘نوجوا ن نے جواب دیا :’’جی !ہم صفائی والے۔
شاہ جی رحمہ اللہ نے اسے پکڑکرگلے لگالیا اور اس کے دل پر ہاتھ رکھ کرکہا :’’ ذرا یہاں کی بھی صفائی کرتے جائو ‘‘۔
حضرت امیر شریعت اس کے بعد جلسہ گاہ میں پہنچ گئے ۔تقریباً آدھ گھنٹے بعد مولانا عبدالجبار ابوہری نے آتے ہی کہا : ’’شاہ جی !اسے کیا کرآئے ہو ؟‘‘۔
شاہ جی رحمہ اللہ نے حیرت سے پوچھا ’’ بھائی کس کو ؟‘۔‘
فرمایا ’’صفائی والے کو ‘‘ شاہ جی رحمہ اللہ نے کہا :’’ کچھ بھی نہیں‘‘۔
مولانا عبدالجبار صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا :’’ حضرت !وہ تو سڑک پر تڑپ رہا ہے اور بہت بے قرار ومضطرب نظر آتا ہے اورکہتا ہے کہ شاہ جی سے کہو کہ وہ مجھے فوراً مسلمان کریں اور خود میرے دل کی صفائی کردیں ‘۔‘
چنانچہ شاہ جی رحمہ اللہ کے فرمان کے مطابق وہ اس جلسہ میں لایا گیا اور مشرف بہ اسلام ہوگیا تو شاہ جی کو دعائیں دیتے ہوئے کہنے لگا :’’آپ نے مجھے گلے سے کیالگایا کہ میرا دل روشن ہوگیا اور میں دولت اسلام حاصل کرنے کے لئے بے تاب ہوگیا ‘‘ (ہفتہ روزہ ترجمان اسلام )
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

