حفاظت ِ جان و مال
ایک بزرگ تھے ، بادشاہ وقت ناراض ہو گیا، اس نے کہا: لے آئو ان کو میں ان کو شیر کے آگے ڈالوں گا۔ تو اس زمانے میں پھانسی چڑھانے کی بجائے شیر کے آگے ڈال کے اپنا غصہ نکالا جاتا تھا۔ ان کو پولیس گرفتار کرکے لے گئی تو ان کی بیوی رونے لگی۔ جب بھوکے شیر کے سامنے ان کو پھینکا گیا، شیر ان کی طرف آیا اور آکر ان کے پائوں چاٹنے لگا۔ وزیر سمجھدار تھا، اس نے کہا کہ بادشاہ سلامت! یہ باخدا بندہ ہے اگر اس کے ہاتھ اٹھ گئے یا اس کی زبان سے کوئی بددعا نکل گئی تو آپ کی نسلیں برباد ہو جائیں گی، بہتر ہے کہ اس سے معافی مانگ لیں۔ بادشاہ نے انہیں بلوایا، معافی مانگی اور کہا کہ مجھ سے مس انڈر سٹینڈنگ ہو گئی اور واپس گھر بھیج دیا۔ اب یہ گھر واپس آئے تو بیوی کو توقع ہی نہیں تھی کہ بچ کر آئیں گے، وہ رو رہی تھی۔ اچانک خاوند کو دیکھا تو حیران، اچھا آپ صحیح سالم آ گئے، تو انہوں نے واقعہ سنایا کہ مجھے شیر کے سامنے ڈلوایا گیا مگر شیر نے میرے پائوں چاٹنے شروع کردیئے۔ وہ یہ بات سن کر بڑی خوش ہوئی۔ مگر بیوی بیوی ہوتی ہے، کہنے لگی: اچھا ایک بات سچی سچی بتائیں، شیر جب آپ کی طرف چل کر آرہا تھا آپ اس وقت دل میں کیا سوچ رہے تھے؟ یعنی کتنا ڈر تھا؟ وہ فرمانے لگے کہ میں سوچ رہا تھا کہ پتہ نہیں اس کا لعاب پاک ہوتا ہے یا ناپاک ہوتا ہے۔ اللہ والوں کے دل میں اتنا بھی موت کا ڈر نہیں ہوتا۔
اس عاجز کے سسر محترم حضرت امام العلماء و الصلحاء خواجہ عبدالمالک صدیقی رحمۃ اللہ علیہ انہوں نے پارٹیشن سے پہلے دہلی کے قریب ایک جگہ تھی، آج کل اس کا نام غازی آباد ہے، وہاں مدرسہ بنایا تھا۔ قرآن مجید کی کلاسیں ہوتی تھیں، تین چار سو طلباء وہاں پڑھتے تھے جب پارٹیشن ہونے لگی تو اساتذہ نے کہا کہ حضرت! مدرسہ بند کردیں۔ حضرت نے فرمایا کہ بھئی: اللہ کا قرآن پڑھناکیسے بند کروادوں پڑھنے دو۔ اب مدرسہ کے اندر تین چار سو طلبا تھے اور قریب ہی سکھوں کی آبادی تھی۔ ایک دن مدرسے کے استاد باہرنکلے تو ان کو، وہاں کا ایک سکھ ملا، اس نے کہا: میاں جی! بات کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بتائو!! اس نے کہا: کیا تم لوگوں نے فوج منگوائی ہے؟ اس نے کہا: ہاں، کیوں؟ اس نے کہا کہ یہ جو قریب کی بستیوں والے سکھ ہیں نا تین مرتبہ انہوں نے مشورہ کیا کہ پانیں تلواریں، خنجر لے کر نکلیں اور ہم ان مسلمانوں کے بچوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ دیں لیکن عجیب بات ہے کہ جب وہ جاتے تھے تو مدرسے کے باہر پولیس نظر آتی تھی، فوج نظر آتی تھی۔ تو تم نے فوج منگوائی ہے؟ تو انہوں نے اس کو جو جواب دینا تھا دے دیا۔ جب واپس آئے تو انہوں نے یہ بات خواجہ صاحب کو بتائی کہ حضرت وہ سکھ یہ بات کر رہا ہے۔ حضرت کتاب ’’ تجلیات‘‘۔ میں لکھتے ہیں کہ یہ اللہ کے حفاظت کرنے والے فرشتے تھے جو ان کو اس شکل میں نظر آئے۔ اور وجہ اس کی یہ تھی کہ میرے مدرسے کے اندر گناہ نہیں تھا۔ حضرت فرماتے ہیں کہ مدرسے میں بڑے چھوٹے بچوں کو آپس میں مکس نہیں ہونے دیتے تھے، تربیت کرتے تھے، طلباء نیکی والے تھے، قرآن پڑھنے والے تھے۔ یہ گناہوں سے بچنے کی وجہ تھی کہ اللہ نے ان کی حفاظت فرمادی۔ تو اولیاء اللہ کی جان کی حفاظت فرماتے ہیں۔
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

