حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمہ اللہ

حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمہ اللہ

جناب ظفر اللہ بیگ صاحب لیکچرر جامعہ اسلامیہ ، اسلام آباد نے بتایا کہ ایک دفعہ حضرت مجاہد ملتؒ نے ان کے گائوں پیرو (ضلع جھنگ) میں ایک جلسہ سے خطاب کرنے تشریف لانا تھا۔ ان کے والد مولانا احمد یار صاحب (فاضل دیو بند) نے ملازم کو گھوڑی دے کر بھیجا کہ آپؒ کو ریلوے اسٹیشن سے لے کر آئے۔ ملازم نے ریل گاڑی کی ایک ایک سواری کو بغوردیکھا اس کا اندازہ تھا کہ مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھریؒ امیر مجلس تحفظ ختم نبوت رواجی قسم کے امیر ہوں گے۔ عالمانہ قیمتی لباس ، محبوبانہ وضع قطع ، خطیبانہ چال ڈھال ، بھاری بھرکم شخصیت جن کے ساتھ ایک ملازم نما طالب علم ہوگا جو ان کا بریف کیس اٹھائے آتا ہوگا ، خوبصورت رنگدار قیمتی عینک انہوں نے لگا رکھی ہوگی ، ان کے جسم سے تازہ تازہ چھڑکے ہوئے پائوڈر کی خوشبو آرہی ہوگی جو انہوں نے گاڑی سے اترنے سے ذراپہلے گاڑی کے حمام میں جا کر چھڑکا ہوگا اور وہ دور ہی سے گھوڑی والے ملازم پر برسنا شروع کردیں گے کہ انہیں اس تک پہنچنے میں زحمت اٹھانا پڑی۔ وہ خود انہیں لینے اندر اسٹیشن تک کیوں نہیں آیا۔ سواری والے ملازم کو جب کوئی ایسی مافوق البشر شخصیت نظر نہ آئی تو وہ پریشان کھڑا رہا۔ مولاناؒ نے علامات سے پہچان لیا کہ وہ لینے تو انہیں ہی آیا ہے مگر اس سے یہ کہا جائے کہ آپؒ ہی مولانا محمد علی جالندھریؒ ہیں تو وہ مانے گا نہیں اگرچہ آپ اس پر سچی قسم بھی کھائیں ، کیونکہ کئی روز کے مسلسل تبلیغی سفر کی بدولت آپؒ کے پاس ایک ہی کپڑوں کا جوڑا تھاجو میلا ہوچکا تھا بلکہ کُرتہ تو پھٹ کر بوسیدہ ہو چکا تھا۔
آپؒ اس کے قریب گئے سلا م کیا اور فرمایا: ’’ بھائی تم کہاں سے آئے ہو ، کسے لینے آئے ہو؟ ‘‘ اس نے کہا ’’ مولانا محمد علی جالندھریؒ کو لینے آیا ہوں۔ انہوں نے ہمارے گائوں پیرو میں تقریر کرنی ہے۔ آپؒ نے کہا ’’ دیکھو مولانا تو آئے نہیں ، تم مجھے لے چلو ، تمہیں ثواب ملے گا ، میں نے بھی تقریر سننے تمہارے گائوں جانا ہے۔ ‘‘ وہ کبھی آپؒ کے من موہنے چہرہ کو دیکھتا کبھی آپؒ کی فقیرانہ وضع قطع کو۔
آخر کار وہ آمادہ ہوگیا۔ مگر خود زین والے حصہ پر اور آپ کو پیچھے گھوڑی کی ننگی پیٹھ پر بٹھا لیا۔ جب گائوں پہنچے تو واقفین حال اسے مارنے تک آئے ’’ ظالم تم نے مولانا کو پیچھے یوں بٹھایا ہوا ہے ؟‘‘ اب تو اس کے پائوں تلے سے زمین نکل گئی مگر اسے اعتبار نہیں آتاتھا اور وہ بار بار کہہ رہا تھا ’’ مجھے تو آپ نے مولانا محمد علی جالندھریؒ کو لانے بھیجا تھا بھلا مولانا ایسے … آپؒ نے فرمایا ’’ بھائی اس کا قصور نہیں۔ قصور تو میرا ہی ہے۔ میں نے اسے اپنا نام ہی نہیں بتایا تھا ، یہ تو اس کا احسان ہے جو مجھے اجنبی سمجھ کر بھی اپنے ساتھ لایا۔ ‘‘ (مرسلہ مولانا خدا بخش ملتان)(شمارہ ۔۷۱۔)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more