حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمہ اللہ کا انداز بیان
حاجی احسان الحق میرٹھی سابق ناظم مدرسہ امداد الاسلام میرٹھ راوی ہیں کہ مدرسہ کی انتظامیہ کے تحت سیرت النبی کے جلسہ کی تجویز ہوئی۔ لاہور دفتر میں خط لکھا کہ آپ ایک اچھا مقرر جسے سیرت پر مکمل عبور ہو۔ بھیج کر ممنون فرمائیں جواب آیا تاریخ مقررہ پر مولانا محمد علی جالندھری فلاں گاڑی پر پہنچ جائیں گے۔ تاریخ مقررہ پر ہم لوگ اسٹیشن پر گئے خیال یہ تھا کہ مولانا محمد علی قدآور شخصیت ٗ جبہ پوش ٗ بارعب آدمی ہوں گے۔ گاڑی آئی تو ہمارا خیالی بزرگ کوئی سامنے نہ آیا مسافر تقریباً سب جا چکے۔ اچانک ایک آدمی پر نظر پڑی دو پلی ٹوپی ٗ میلا سا کرتہ ٗ تہبند باندھے پست قامت یوں معلوم ہوتا جیسے پنجاب کا کوئی دیہاتی ہو ہم نے سلام کے بعد پوچھا جناب آپ کہاں سے تشریف لائے ٗ فرمایا لاہورسے حاضر ہوا ہوں۔ پوچھا اسم گرامی فرمایا مجھے محمد علی جالندھری کہتے ہیں۔ حاجی صاحب فرماتے ہیں ہم نے محض اخلاقاً کہا آئیے تشریف لائیے ہم نے ہی آپ کو تکلیف دی ہے لیکن ہم سخت پریشان کہ احرار والوں نے ہمارے ساتھ زیادتی کی جلسہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اور یو۔پی کا شہر ایک دیہاتی آدمی کیا کرے گا پھر وضع قطع کے لحاظ سے بارعب شخصیت ہوتی تو شاید کچھ بات بن جاتی ہم سخت پریشان ہوئے باہمی تنہائی میں مشورہ کے لیے بیٹھے کہ کوئی عذر کرکے مولوی صاحب کو واپسی کا ٹکٹ لے کر دے دیا جائے اور جلسہ ملتوی کردیں یہ اس سے اچھا ہے کہ اسٹیج پر توہین ہو لیکن بعض دوستوں کی رائے ہوئی کہ ظاہری حالت کو چھوڑیئے لاہور سے ایک ذمہ دار جماعت جس کا ہندوستان میں مقررین کے لحاظ سے طوطی بولتا ہے۔ ایک ناسمجھ کو کیسے یو۔ پی میں بھیجتی۔ اب جو ہوسو ہو۔ جلسہ ملتوی نہ کیا جائے ٗ کھانا کھایا باتیں بھی مولوی صاحب سے کرتے رہے لیکن ہمارے دل پریشان۔ آخرایک موقع پرعلماء دیو بند کا کسی انداز میں ذکر خود چھیڑا۔ حضرت شا ہ صاحب ٗ حضرت مدنی ٗ حضرت تھانوی کے اسماء گرامی کا تذکرہ ہوا مولانا نے گفتگو میں حصہ لیا توہم حیران ہوئے لیکن ابھی تک مطمئن نہیں تھے۔ یہ خیال کیا کہ یہ ضروری نہیں کہ آدمی عام نشست میں مدلل گفتگو کرلے تو وہ اسٹیج پر بھی بہادر ہو۔ بہرحال جلسہ گاہ میں پہنچے ٗ تلاوت و نظم کے بعد مولانا کا نام سامنے آیا ٗ خطبہ پڑھا تو ایک دفعہ پھر سابقہ پریشانی کہ یہ شخص تو خطبہ بھی کسی سلیقہ سے نہیں پڑھ سکتا ہم باہمی کھسر پھسر کر رہے تھے۔ پانچ منٹ بمشکل گزرے ہوں گے کہ پورا مجمع مولانا کے قبضہ میں تھا ہماری پریشانی آناً فاناً کافور ہوگئی۔ پھرکیا تھا قرآن وحدیث ٗ تاریخی واقعات ٗاور خدا دا د بلکہ الہامی بیان سن کر لوگ عش عش کر رہے ہیں۔ اڑھائی گھنٹے مولانا نے تقریر فرمائی ہم اپنی سابقہ غلطی پر اندر ہی اندر نادم ہوتے رہے بلکہ اپنی بیوقوفی پر پریشان … عوام کا یہ تاثر تھا کہ مولانا نے سیرت بیان کرکے حق ادا کر دیا۔ ایسے علوم اور یہ انداز بیان یہ مولانا پر محض اللہ کا کرم ہے۔ اختتام جلسہ پر اعلان کیا گیا کہ مولانا کی کل بھی اسی جگہ تقریر ہوگی۔ لیکن مولانا نے فرمایا میں ایک جماعت کے ساتھ منسلک ہوں جماعت کا حکم ایک دن کا تھا جو پورا ہوگیا۔ اب دوسری جگہ جانا ہوگا لیکن ہم نے عوام کو یقین دلایا کہ ہم لاہور میں رابطہ کرکے اجازت حاصل کرلیں گے۔ لوگ مصر تھے کہ کل تقریر ضرور ہو۔ اسی وقت ڈبل چارج برداشت کرکے واپسی تار لاہور دیا اور بڑی لجاجت سے اجازت لی۔ اگلے روز کل سے کہیں زیادہ پبلک تھی اور مولانا کا بیان ایک تاریخی تھا۔ اگرہمارے اختیار میں ہوتا تو ایک مہینہ مولانا کی تقاریر کرواتے ٗ تاکہ سیرت کے مفہوم سے لوگ آشنا ہو جاتے۔ اس سے آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ میدان خطابت میں ان کا مقام کیا تھا اور ہر موضوع کا وہ کس طرح حق ادا کرتے تھے۔ (از کتاب مولانا محمد علی جالندھری رحمہ اللہ) (مرسلہ مولانا خدا بخش ملتانی شمارہ ۷۰)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

