حضرت مرشد عالم رحمۃ اللہ علیہ کا عشق قرآن

حضرت مرشد عالم رحمۃ اللہ علیہ کا عشق قرآن

ہمارے حضرت پیر غلام حبیب رحمۃ اللہ علیہ مرشد عالم کہلائے جاتے تھے۔ یہ مرشد عالم کیسے بنے؟ قرآن کی محبت کی وجہ سے۔ اتنا عشق تھا ان کو قرآن سے کہ ہم نے دیکھا کہ حضرت تھکے ہوئے آتے تھے اور قرآن سن کر بالکل فریش ہو جاتے۔ فرماتے تھے کہ قرآن سننے سے میری تھکن دور ہو جاتی ہے۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
ایک دفعہ مری میں حضرت کے ساتھ رمضان المبارک میں کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا۔ رمضان کا مہینہ تھا اور وہ ایک ایسی رات تھی کہ وہاں مسجد والوں نے پورے ملک سے قراء کو بلایا ہوا تھا۔ اور انہوں نے اپنا قرآن سنانا تھا۔ وہ امام صاحب بتانے لگے کہ اس مصلے پر چھتیس سال سے ہم یہ رات گزارتے ہیں اور چھتیس سال میں ایک بھی قاری کو کبھی لقمہ دینے کی بھی ضرورت پیش نہیں آئی۔ ایسے قاریوں کو بلاتے تھے کہ جن کو قرآن مجید اس طرح یاد ہوتا تھا۔ جس طرح کہ لوگوں کو سورۃ فاتحہ یاد ہوتی ہے۔ ایسے لوگ آتے تھے۔حضرت بھی وہیں تھے اورحضرت کو شوگر کی بیماری تھی عمر نوے سال کے قریب تھی حضرت نے مغرب کے بعد افطاری کی، وضو فرمایا اور وضو کرکے مسجد میں تشریف لے آئے۔ عشاء کی نماز ہوئی ، تراویح شروع ہو گئی تراویح مکمل ہونے کے بعد قراء کی اپنی تراویح کچھ رہتی تھیں ، دو دو رکعت کرکے چھوڑی ہوئی تھیں۔ انہوں نے تراویح کی نیت کرنی تھی اور پیچھے والوں نے نفل کی نیت کرنی تھی۔ چنانچہ انہوں نے قرآن سنانا شروع کردیا۔ میں نے پوچھا کہ حضرت! آپ وضو وغیرہ تازہ کرنے کے لئے کمرے میں جائیں گے مغرب کا وضو اور اب تراویح وغیرہ بھی ہو گئی۔ حضرت نے فرمایا نہیں قرآن سنوں گا۔
حضرت نے نیت باندھ لی۔ ساری رات قرآن مجید سنتے رہے۔ حتیٰ کہ سحری سے ایک گھنٹہ پہلے مسجد والوں نے سحری کا انتظام وہیں پر کیا ہوا تھا۔ چنانچہ حضرت نے سحری بھی وہیں کی۔ اب جب سحری کرلی، اذان ہو گئی تو نماز میں تھوڑا وقفہ تھا۔ میں پھر قریب ہوا اور پوچھا کہ حضرت آپ کمرے میں تشریف لے جائیںگے وضو تازہ کرنا ہوگا؟
سحری کے بعد تو اچھے بھلے بندے کو بھی واش روم استعمال کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ جب میں نے کہا کہ حضرت وضو کرنا ہے؟ تو فرمایا کہ میرا وضو کوئی کچا دھاگا ہے! حضرت نے آگے سے یہ الفاظ کہے۔ میں خاموش ہو گیا۔ شوگر کے مریض ہیں تقریباً نوے سال کی عمر ہے اور مغرب کا وضو کیا ہوا اور فرماتے ہیں کہ میرا وضو کوئی کچا دھاگا ہے۔ حضرت نے فجر کی نماز پڑھی اور فجر کی نماز پڑھنے کے بعد درس قرآن میں بیٹھ گئے۔ یا اللہ! حضرت نے ایک گھنٹے کا درس قرآن دیا، اس کے بعد اشراق کی نماز پڑھی اور اشراق پڑھنے کے بعد آئے اور آ کر نیا وضو کیا۔ لوگ امام اعظم پہ باتیں کرتے تھے کہ وہ عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھتے تھے۔ اللہ کے بندو! ہم نے مغرب کے وضو سے اشراق کی نماز پڑھتے ہوئے ایک اللہ والے کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ چنانچہ حضرت جب گفتگو فرماتے تھے تو عام گفتگو میں قرآن مجید کی آیتیں بیان کرتے تھے۔ حضرت کے صاحبزادے مولانا عبدالرحمن قاسمی رحمۃ اللہ علیہ ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ابا جی پورے دن کی گفتگو میں جتنی آیتیں پڑھتے تھے اگر میں ان کو اکٹھا کروں تو میرے اندازے میں تین سے چار پارے قرآن مجید کی تلاوت مکمل ہو جاتی ہے۔ اس عشق قرآن کا اللہ نے ان کو کیا اجر دیا کہ آج پوری دنیا میں ہمارے حضرت کا فیض پھیلا ہوا ہے۔
یہ بات ذہن میں رکھئے کہ جس کو بھی اللہ نے اٹھایا اگر آپ دیکھیں تو وہ بندہ یا اس کے پیچھے کوئی عاشق قرآن ہو گا۔ جس کی دعائوں نے اس کو اٹھا کے، عزتوں کے تاج پہنائے ہوئے ہوں گے۔
اللہ رب العزت ہمیں قرآن مجید کے ساتھ سچی پکی محبت نصیب فرمائے۔ ہماری زندگی کا کوئی دن قرآن مجید کی تلاوت کے بغیر نہ گزرے۔(ج 29ص185)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more