حضرت مدنی رحمہ اللہ کے ایک شاگرد
ہمارے حضرت کے مدرسہ میں ایک استاد تھے جو حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد تھے۔ انہوں نے دورہ ٔ حدیث دارلعلوم دیوبند میں حضرت مولانا مدنی رحمۃ اللہ علیہ سے کیا تھا ۔ کوئی بیس سال انہوں نے مسلم شریف پڑھائی اور نیک بزرگ تھے، تہجد گزار تھے۔ حضرت کے بڑے مداح تھے، اللہ کی شان کہ دو سال حضرت کے دارالعلوم میں رہے مگر بیعت کیلئے جرأت نہ کی۔ بس یہی سمجھتے رہے کہ محبت تو مجھے ہے، حضرت سے میں درس بھی سنتا ہوں، بیان بھی سنتا ہوں، باتوں پر عمل بھی کرتا ہوں تو مقصود تو حاصل ہے۔ مگر وہ ایک تعلق جو جوڑا جاتا ہے اصلاح اور تربیت کا وہ نہ جوڑ پائے۔ حضرت کی وفات ہو گئی تو جس دن حضرت کی وفات ہوئی بس اس دن تو ان پرغم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ بہت دن تک گریہ زاری کرتے رہے۔ اب وہ ادھر ادھر دیکھتے تھے کہ کس سے بیعت ہوں؟ اب تو مجھے حضرت جیسا کوئی نظر نہیں آتا۔ ایک دن مجھے فرمانے لگے کہ آپ مجھے بیعت کر لیں۔ اس عاجز نے ان کے سامنے ہاتھ جوڑے۔ آپ حدیث پڑھانے والے، ہمارے حضرت کے خدمت کرنے والے، میں تو بچہ ہوں آپ کا۔ کہنے لگے: نہیں! طبیعت کی مناسبت آپ کے ساتھ ہے لہٰذا میں آپ سے یہ تعلق جوڑوں گا۔ خیر میں نے دو تین مرتبہ نہ کی تو ان کی آنکھوں سے آنسو آ گئے، بات ماننی پڑی۔
وہ بسا اوقات عجیب باتیں سناتے تھے۔ ایک مرتبہ کہنے لگے کہ حضرت! میں آپ کو آنکھوں دیکھا واقعہ سنائوں! میں نے کہا کہ ضرور سنائیں۔ کہنے لگے کہ ہم دارالعلوم دیوبند میں تھے، حدیث ِ پاک کا سبق ختم ہونے کا وقت قریب تھا، سعودی عرب سے کچھ علماء کا ایک گروپ آیا ایک جماعت آئی کہ جی ہم حکومت کی طرف سے آئیں ہیں، آپ لوگوں سے علمی نکتہ پر بحث مباحثہ کرنے کے لئے، ہمارے سوال کا جواب دیں۔
ناظم تعلیمات نے پوچھا کہ کیا سوال؟ کہنے لگے کہ حدیث پاک میں آیا ہے کہ ’’بِنَا عَلَی الْقُبُوْرِ‘‘ کی اجازت نہیں۔ یعنی قبر کے اوپر جو عمارت بنا دیتے ہیں اس کی اجازت نہیں، کھلے آسمان کے نیچے ہونی چاہئے۔ اسی لئے ہمارے اکابر کے ہاں قبر کے اوپر مقبرہ نہیں بناتے اور اگر کہیں آپ دیکھیں گے بھی سہی تو اوپر سے چھت خالی رکھتے ہیں۔ وہ بیٹھنے والوں کے لئے بناتے ہیں، جو قریب آکے قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہیں۔ توکہنے لگے کہ ہم نے بقیع شریف سے اس طرح کے سارے قبے جو بنے ہوئے تھے، جو ترکوں نے بنائے تھے وہ سب ہٹا دیے۔ اب سوال اٹھا کہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کا گنبد ِ خضرا ہے۔ جب حدیث میں اجازت نہیں کہ قبر کے اوپر عمارت بنائی جائے تو پھر اس کو بھی کیوں نہ ہٹا دیا جائے؟ تو حکومت نے ہمیں کہا کہ نہیں تم مختلف ملکوں میں جائو اور وہاں کے علماء سے بات چیت کرو۔ اگر سب متفق ہوں گے تو قدم اٹھائیں گے ورنہ نہیں۔ اسی سلسلے میں ہم آپ کے پاس آئیں ہیں۔ ناظم صاحب نے کہا کہ ہمیں تین دن کا وقت دیں ہم اور علماء کو بھی مشورے کے لئے بلا لیں۔ ناظم صاحب نے علماء کو اطلاع دی تو یہ بات تو جنگل کی آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل گئی۔ کہنے لگے: جس دن عصر کے بعد کا وقت متعین تھا، اس دن سے پہلی رات ہم نے دارالعلوم میں ایسی دیکھی کہ پہلے کبھی دیکھی نہیں تھی۔ تقریباً پانچ سو بڑے بڑے علما کا مجمع تھا، جید علمائے کرام جو استاذ الاساتذہ تھے ان کا مجمع تھا۔ کوئی آپس میں بیٹھ کر تکرار کر رہے ہیں، کوئی حدیث پاک پڑھ رہے ہیں، کوئی شروحات دیکھ رہے ہیں، کوئی نفل پڑھ رہے ہیں، کوئی اللہ سے دعا مانگ رہے ہیں، ساری رات علما کی روتے تڑپتے گزر گئی کہ اس کا جواب ہم کیا دیں۔
عصرکی نماز پڑھی گئی تو پانچ سو علماء کا جو مجمع تھا سب بیٹھ گئے۔ تو جو عرب علماء آئے تھے، ان میں سے ایک کھڑے ہوئے اور انہوں نے کھڑے ہو کر یہ کہا کہ ہم آپ سے ایک علمی نکتہ پوچھنے کے لئے آئے ہیں کہ حدیث مبارکہ میں آیا ہے اور بخاری شریف کی روایت ہے کہ بناء علی القبور جائز نہیں۔ اب آپ بتایئے کہ گنبد خضرا کے بارے میں آپ لوگ کیا کہتے ہیں؟ کہنے لگے کہ اس نے یہ سوال پوچھا اور بیٹھ گئے اورآگے سناٹا، بالکل خاموشی ، کوئی جواب دینے کے لئے اٹھ نہیں رہا تھا۔ کہتے ہیں ہم طلبا تھے ہم نے ارد گرد دیکھا کہ اکثر علماء کی آنکھوں میں سے آنسو تھے۔ بہت بڑی ذمہ داری تھی، سسکیاں لے کر رو رہے تھے۔ اس وقت حضرت اقدس تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کھڑے ہوئے اور جوابی خطبہ پڑھ کر فرمایا: الحمد ﷲ اللہ رب العزت نے میرا شرح صدر فرما دیا۔ فرمانے لگے: یہ حدیث بالکل صحیح ہے اس کے روات کے اوپر بھی کوئی جرح اورتعدیل کا مسئلہ نہیں، متن صحیح ہے۔ حدیث ِ مبارکہ میں ضعف کہیں سے نہیں آتا کہ بالکل صحیح حدیث ہے، بنا علی القبور کی اجارت نہیں۔ عرب علماء وہاں کھڑے ہو گئے، کہنے لگے: جب آپ بھی کہتے ہیں کہ یہ بخاری شریف کی بالکل صحیح حدیث ہے کوئی ضعف نہیں تو پھر ہم جو کہہ رہے ہیں وہ سچ ہے۔ فرمایا نہیں یہی تو اللہ تعالیٰ نے شرح صدرکردیا کہ حدیث پاک بھی صحیح ہے مگر آپ گنبد خضرا کو گرا بھی نہیں سکتے۔ وہ بڑے حیران، کہنے لگے کہ کیا مقصد ہے آپ کا؟ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے پھر جواب میں فرمایا کہ دیکھو! حدیث پاک صحیح ہے لیکن گنبد خضرا کو آپ نہیں ہٹا سکتے کیونکہ یہ بنا علی القبور نہیں ہے۔ یہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا حجرہ تھا، بنا پہلے تھی قبر بعد میں بنی، قبر پر چھت نہیں بنائی گئی پہلے سے یہ چھت تھی، جب اس کے اندر قبر مبارکہ کو بنایا گیا تو اب کوئی کون ہوتا ہے اس چھت کو ہٹانے والا؟ ایسی ان کی تسلی ہوئی کہ وہ کہنے لگے کہ آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ وہ حضرات واپس چلے گئے، آج بھی یہ گنبد خضرا اپنی جگہ پر کھڑا ہے، یہ علمائے دیوبند کی خدمات کی ایک نشانی نظر آتا ہے۔
تو ادب سے انسان کو علم ِ نافع نصیب ہوتا ہے علم نافع سے انسان کو عمل کی توفیق نصیب ہوتی ہے اور عمل سے انسان کو حکمت نصیب ہوتی ہے۔(ج 26ص73)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

