حضرت غلام رسول پونٹوی رحمۃ اللہ علیہ کا ادب
حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے ایک شاگرد تھے، ان کا نام تھا غلام رسول۔ شجاع آباد ملتان کی طرف ایک بڑا شہر ہے، وہاں سے آگے ایک گائوں میں رہتے تھے۔ پونٹا، اس کا نام ہے، دیہات میں انہوں نے مدرسہ بنایا تھا اور ان کا مدرسہ روڈ سے تیس کلو میٹر کے اندر تھا اور فصلوں کے اندر سے سر پربستر رکھ کر جانا پڑتا تھا۔ نہ تانگہ نہ ریڑھی کچھ بھی نہیں ملتا تھا، چل ہی نہیں سکتے تھے۔ طلبا تیس کلو میٹر بستر سر پررکھ کر جاتے تھے اور جمعرات کو کبھی آنا ہوتا تو تیس کلو میٹر پیدل چل کر واپس آتے تھے پھر سڑک ملتی تھی۔ اگلا سفربعد میں اور اس دیہات میں جہاں ان کے پاس زندگی کی سہولیات بھی نہیں تھیں۔ تین سو طلبا پڑھنے کے لئے آیا کرتے تھے۔
آپ اتنے بڑے نحوی تھے کہ خیرالمدارس کا سالانہ جلسہ ہوا اور اس میں پورے پاکستان کے بڑے بڑے مشاہیر علماء تشریف لائے۔ مفتی اعظم پاکستان اور دوسرے حضرات، بڑے بڑے شیوخ الحدیث اورمفسرِ قرآن سب تشریف لائے۔ اس وقت حضرت مولانا خیر محمد جو حضرت تھانویؒ رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ بھی تھے اور بہت بڑے عالم بھی تھے اوراس مدرسے کے بانی بھی تھے، انہوں نے سٹیج پر کھڑے ہو کر حضرت غلام رسول پونٹوی رحمۃ اللہ علیہ کو بلایا اور اعلان فرمایا: شمس النحات غلام رسول پونٹوی دامت برکاتہم تشریف لائیں۔ اب جس کو پورے ملک کے علماء کے سامنے شمس النحات کہا جا رہا ہو وہ کتنے بڑے عالم ہوں گے۔ کسی نے ان سے پوچھا کہ حضرت! اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت عزتوں سے نوازا آخر آپ کو یہ علم کیسے ملا؟ (ان کی ایک کتاب شرح مائۃ عامل پونٹوی اکثر مدارس میں پڑھائی جاتی ہے) فرمایا: مجھے اپنے استاد کے ادب کی وجہ سے ملا۔ حضرت! استاد کا ادب تو سارے بچے کرتے ہیں، فرمایا: نہیں میں شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ سے جب بخاری شریف پڑھتا تھا تو حضرت نے اپنے کمرے سے دارالحدیث میں چل کر آنا ہوتا تھا تو میں استاد کی محبت میں رات کو طلبا سے چھپ کر اس راستے کو صاف کیا کرتا تھا۔ کہ میرے شیخ الحدیث ہیں میںنے ان سے علم حاصل کرنا ہے۔ اور فرمایا کہ ایک دن جھاڑو نہیں تھا تو میں نے اپنے عمامہ کو اتارا اور پگڑی سے اس راستے کو صاف کیا۔ اللہ کی شان کہ اسی رات شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے کھڑکی سے جھانکا اور ان کی نظر پڑ گئی، انہوں نے بلا لیا۔ غلام رسول ! کیا کر رہے ہو؟ بات کھولنی پڑ گئی کہ حضرت! میں روز اس راستہ کو صاف کرتا ہوں۔ آپ تشریف لاتے ہیں، میں آپ سے علم حاصل کرتا ہوں۔ حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کو بہت خوشی ہوئی تو حضرت نے دعا دی۔ قبولیت کا لمحہ، ایک لمحے میں اللہ تعالیٰ وہ درجے طے کروا دیتا ہے جو انسان سالوں کی محنت سے حاصل نہیں کر سکتا۔ پھراللہ نے وہ مقام دیا کہ طلبا کو فرمایا کرتے تھے اگر پوری دنیا میں سے شرح جامی کو ضبط کر لیا جائے، ختم کر دیا جائے، کہیں نہ ملے اور کوئی طالب علم میرے پاس آ کرکہے کہ حضرت شرح جامی کی ضرورت ہے۔ فرماتے تھے کہ اپنی قوت ِ یادداشت سے اس کتاب کو میں دوبارہ لکھوا سکتا ہوں۔(ج 26ص70)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

