حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی انتقال کے وقت وصیت
حضرت یحییٰ بن ابی راشد نصری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن خطاب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو اپنے بیٹے سے فرمایا: اے میرے بیٹے! جب مجھے موت آنے لگے تو میرے جسم کو (دائیں پہلو کی طرف) موڑ دینا اور اپنے دونوں گھٹنے میری کمر کے ساتھ لگا دینا اور اپنا دایاں ہاتھ میری پیشانی پر اور بایاں ہاتھ میری ٹھوڑی پر رکھ دینا۔ اور جب میری روح نکل جائے تو میری آنکھیں بند کردینا اور مجھے درمیانی قسم کا کفن پہنانا کیونکہ اگر مجھے اﷲ کے ہاں خیر ملی تو پھر اﷲ تعالیٰ مجھے اس سے بہتر کفن دے دیں گے۔ اور اگر میرے ساتھ کچھ اور ہوا تو اﷲ تعالیٰ اس کفن کو مجھ سے جلدی چھین لیں گے، اور میری قبر درمیانی قسم کی بنانا کیونکہ اگر مجھے اﷲ کے ہاں خیر ملی تو پھر قبر کو تاحد نگاہ کشادہ کردیا جائے گا اور اگر معاملہ اس کے خلاف ہوا تو پھر قبر میرے لئے اتنی تنگ کردی جائے گی کہ میری پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جائیں گی۔
میرے جنازے کے ساتھ کوئی عورت نہ جائے اور جو خوبی مجھ میں نہیں ہے اسے مت بیان کرنا کیونکہ اﷲ تعالیٰ مجھے تم لوگوں سے زیادہ جانتے ہیں، اور جب تم میرے جنازے کو لے کر چلو تو تیز چلنا کیونکہ اگر مجھے اﷲ کے ہاں سے خیر ملنے والی ہے تو تم مجھے اس خیر کی طرف لے جارہے ہو۔ (اس لئے جلدی کرو) اور اگر معاملہ اس کے خلاف ہے تو تم ایک شر کو اٹھا کر لے جارہے ہو اسے اپنی گردن سے جلد اتاردو۔ (حیاۃ الصحابہ جلد ۳ صفحہ۵۲،۵۳)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

