حضرت عبداﷲ بن زبیر کی سخاوت
حضرت ابن زید رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابن منکدررحمہ اللہ نے فرمایا: میرے پاس ایک شخص نے سو دینار امانت رکھوا لئے میں نے اس سے کہا بھائی! اگر ہمیں ضرورت پڑی تو اسے خرچ کردیں گے اور پھر آپ کو ادا کردیں گے اس نے کہا: ٹھیک ہے پھر ہمیں ضرورت پڑی تو ہم نے اسے خرچ کردیا۔۔۔۔۔ اس کا قاصد میری پاس آ گیا میں نے کہا: ہمیں اس کی ضرورت پڑ گئی تھی اور اب ہمارے گھر میں کچھ نہیں ہے کہتے ہیں میں دعا کیا کرتا کہ یا رب! میری امانت خراب نہ ہو جائے میری امانت ادا کروا دیجئے میں یہ دعا کرکے باہر نکلا تو جیسے ہی میں نے قدم رکھا کہ گھر میں داخل جائوں تو ایک شخص نے میرے کندھا تھاما اور مجھے ایک تھیلی پکڑادی جس میں سو دینار تھے وہ انہوں نے ادا کردیئے لوگوں کو بھی پتہ نہ چلا کہ وہ شخص کون تھا اور نہ یہ معلوم ہو سکا کہ وہ رقم کس نے دی جب عامر اور منکدر کی وفات ہوئی تو ایک شخص بتلانے لگا کہ مجھے عامر یعنی عبداللہ بن زبیر نے بھیجا تھا اور کہا تھا کہ یہ تھیلی ان کو دے آئو اور اس کا تذکرہ نہ کرنا یہاں تک کہ میں مر جائوں یا ابن منکدر مر جائے اب جب کہ وہ دونوں وفات پا گئے تو میں تم لوگوں کو بتلا رہا ہوں۔۔۔۔۔(دل کی باتیں)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

