حضرات شیخین کو پُرحکمت نصیحت
حضرت ڈاکٹر عبدالحئی عارفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مشہور واقعہ ہے آپ حضرات نے سنا ہوگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی رات کے وقت صحابہ کرامؓ کو دیکھنے کے لیے باہر نکلا کرتے تھے ۔ایک مرتبہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھاکہ تہجد کی نماز میں بہت آہستہ آہستہ آواز میں قرآن کریم کی تلاوت کررہے ہیں ۔جب آگے بڑھے تو دیکھا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت زور زور سے قرآن کریم کی تلاوت کررہے ہیں ۔اس کے بعد آپ واپس گھر تشریف لے آئے ۔صبح فجر کی نماز کے بعد جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ رات کو ہم نے دیکھا کہ آپ نماز میں بہت آہستہ آہستہ قرآن کریم کی تلاوت کررہے تھے ۔اتنی آہستہ آواز میں کیوں کررہے تھے؟ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب میں کتنا خوبصورت جملہ ارشاد فرمایا ۔فرمایا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! میں جس سے مناجات کررہا تھا اس کو سنادیا ۔اس لیے مجھے آواز زیادہ بلند کرنے کی ضرورت نہیں جس ذات کو سنانامقصود تھا اس نے سن لیا ۔اس کے لیے بلند آواز کی شرط نہیں ۔ اس کے بعد آپ نے حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ آپ اتنی زور سے کیوں پڑھ رہے تھے ۔انہوں نے جواب میں فرمایا کہ میں اس لیے زور سے پڑھ رہا تھا کہ سونے والوں کو جگائوں اور شیطان کو بھگائوں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ ’’تم ذرا بلند آواز سے پڑھا کرو‘‘ اور حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ ’’تم اپنی آواز کو تھوڑا سا کم کردو‘‘ (ابوداؤد‘ اصلاحی خطبات جلد۲ ص ۱۴۰)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

