حرام مال میں بھی حج واجب ہے گو اس کا حج قبول نہ ہوگا
ارشاد فرمایا کہ بعض اوقات ایک شخص کے پاس حرام مال اتنی مقدار میں جمع ہوجاتا ہے کہ حج کو کافی ہوجائے مگر یہ سمجھتا ہے کہ یہ تو مالِ حرام ہے ، اس کا حج میں خرچ کرنا اور بھی زیادہ برا ہے اور حلال مال میرے پاس اس قدر ہے نہیں ، اس لئے میرے ذمہ حج فرض نہیں اور یہی خیال بعض لوگوں کا زکوٰۃ میں بھی ہے ، پس یہ لوگ نہ حج کرتے ہیں نہ زکوٰۃ دیتے ہیں۔ سو خوب سمجھ لینا چاہئے کہ حج و زکوٰۃ کی فرضیت کا مدارمال کا مالک ہونا ہے ، اس کے حلال ہونے کو فرضیت میں دخل نہیں، اس لئے ایسے شخص کے ذمہ حج اور زکوٰۃ دونوں فرض ہیں۔ البتہ حرام مال سے جو حج ہوگا وہ مقبول نہ ہوگا لیکن فرض ادا ہوجائے گا یعنی اس شخص پر یہ مواخذہ نہ ہوگا کہ حج کیوں نہ کیا ، گویہ مواخذہ ہو کہ مالِ حرام کیوں جمع کیا ؟ اور اس سے کیوں نفع اٹھایا ِ؟ سو ادا ہوجانا اور چیز ہے اور قبول ہونا دوسری چیز۔ (امدادالحجاج ،صفحہ ۹۰)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات جو حج سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

