حدیث کیلئے اہتمام و ادب
حضرت علامہ شمس الحق افغانی رحمہ اللہ اپنے خطبات میں فرماتے ہیں کہ شیخ الاسلام حضرت مدنی رحمہ اللہ جب مدرسے میں درس حدیث پاک دینے تشریف لے جاتے تو روزانہ نئے دھلے ہوئے کپڑے پہنتے اور خوب عطر لگاتے۔۔۔ جس راستے سے آپ گزرتے اس راستے میں خوب خوشبو پھیلی ہوئی ہوتی۔۔۔ چونکہ عوام الناس بھی درس سننے آتے تھے۔۔۔ تو خوشبو سے لوگ اندازہ کرلیتے کہ حضرت مدنی رحمہ اللہ درس دینے کیلئے تشریف لے گئے ہیں تو وہ جلدی جلدی چلنے لگتے۔۔۔
ایک دن آپ درس کیلئے تیار ہورہے تھے کہ کسی ریاست کا نواب آگیا جو آپ کو اپنے ہاں لے جانا چاہتا تھا۔۔۔ آپ نے فرمایا درس سے فارغ ہوکر چلیں گے تو دوران تیاری جب طالب علم نے الماری سے خالص کستوری کے عطر کی شیشی نکالی اس وقت جس کی قیمت 90 روپے تھی وہ نواب سمجھا شاید کچھ کپاس کو لگا کر کان میں رکھیں گے۔۔۔ مگر طالب علم نے حسب معمول پوری شیشی ہاتھ پہ ڈال کر حضرت مدنیؒ کے کپڑے اور بالوں اور داڑھی مبارک کو لگا دی نواب حیران ہوا۔۔۔ اس نے کہا حضرت یہ تو اتنی قیمتی ہے۔۔۔ فرمایا ہاں بھائی جس کیلئے لگاتا ہوں وہ خود انتظام کردیتا ہے خیر نواب بھی درس میں شریک ہوا۔۔۔ درس سے فارغ ہوکر وہ موٹر میں حضرت کو لے کر روانہ ہوا۔۔۔ درس حدیث کا اس کے دل پر کوئی ایسا اثر ہوا کہ دوران سفر کہتا ہے کہ حضرت جب تک میں زندہ ہوں یہ عطر کی خدمت میرے ذمہ ہے۔۔۔ ہر ماہ تیس شیشیاں عطر کی پیش کیا کروں گا۔۔۔ حضرت مدنی رحمہ اللہ نے فرمایا میں نے نہیں کہا تھا کہ میاں! جس کیلئے لگاتا ہوں وہ خود انتظام فرمادیتے ہیں۔۔۔ آج میرے پاس یہ آخری شیشی تھی۔۔۔ سبحان اللہ۔۔۔
حضرت علامہ شمس الحق افغانی رحمہ اللہ ایک مرتبہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک تشریف لائے تو دوران تقریر حضرت مولانا عبدالحق صاحب رحمہ اللہ کے بارہ میں ارشاد فرمایا۔۔۔ ’’مولانا عبدالحق صاحب ولی کامل ہیں اور یہ دارالعلوم حقانیہ مولانا کی ولایت کی ایک نشانی ہے اور ان کو یہ ولایت اپنے شیخ حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کی خدمات کی وجہ سے حاصل ہوئی۔۔۔
دارالعلوم دیوبند سے بہت سے اہل علم نے استفادہ کیا لیکن سرحد میں جوکام مولانا عبدالحق صاحب نے سرانجام دیا وہ کسی اور کے حصہ میں نہیں آیا‘‘۔۔۔
مولانا افغانی رحمہ اللہ نے دوران تقریر یہ بھی فرمایاکہ
یہ مدرسہ‘ یہ تعمیر‘ یہ مسجد‘ یہ طلبہ ‘یہ سب مولانا عبدالحق صاحب کی ولایت کی زندہ نشانیا ںہیں۔۔۔
حضرت شیخ الحدیث مولانا عبدالحق صاحب رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے یہ ولایت اپنے شیخ مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کی خدمت کیوجہ سے حاصل ہوئی تھی۔۔۔ میں روزانہ عصر کے بعد حضرت مدنی رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوتا اور مہمانوں کی خدمت وغیرہ کرتا تھا اس پر کچھ حاسدین طلبہ چپکے سے کہتے کہ وہ دیکھو چاپلوس آگیا۔۔۔
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

