حج کی حقیقت
ارشاد فرمایا کہ اور تمام عبادات تو مجاہدہ ہیں اور حج مشاہدہ ہے۔ جو لوگ طریقِ مجاہدہ (یعنی مجاہدے کی منزلیں) طے کر چکے ہیں وہ واقعی صرف حج ِ بیت نہیںکرتے بلکہ حج ربّ البیت کرتے ہیں ۔ ان کو ظاہری آنکھوں سے گو (حق تعالیٰ کا) دیدار نصیب نہ ہو مگر حج میں قلب سے ان کو مشاہدۂ حق ضرور حاصل ہوجاتا ہے۔ جب حق تعالیٰ نے حج کے افعال کو مشروع کیا ہے تو ان میں اثر بھی رکھا ہے ۔ اس کا مشاہدہ اس سے ہوتا ہے کہ بیت اللہ کے برابر کسی چیز کا دل پر اثر نہیں ہوتا ۔ بیت اللہ کو دیکھ کر گھڑوں پانی آنکھوں سے امنڈتا ہے ۔ روضہ اقدس ﷺ کو دیکھ کر جو حالت ہوتی ہے وہ اس قسم کی نہیں جو بیت اللہ دیکھ کر ہوتی ہے ۔ وہاں رونا محبت ِ جمال سے ہوتا ہے اور یہاں محبت ِ جلال سے اور کیوں نہ ہو ، مشاہدۂ بیت میں مشاہدۂ ربّ البیت کا اثر کچھ تو ہونا چاہئے۔ (امدادالحجاج ،صفحہ ۱۰۳)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات جو حج سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

