حاکم وقت سے بے اعتنائی
سالم بن عبداللہ کے بارے میں آتا ہے کہ بیت اللہ شریف کا طواف کر رہے تھے ان کو وقت کا حاکم ملا۔ کہنے لگا: سالم! آپ بتائو میں آپ کے لئے کیا کر سکتا ہوں؟ انہوں نے معذرت کردی۔ وہ کہنے لگا: نہیں آپ مانگیں جو مانگتے ہیں۔ تو انہوں نے بیت اللہ کی طرف اشارہ کرکے کہا او خدا کے بندے! اس گھر کے پاس آ کے بھی تجھ سے کچھ مانگوں گا۔ حاکم بڑا شرمندہ ہوا۔ سالم بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنا طواف مکمل کیا اور طواف مکمل کرکے حرم محترم سے باہر نکلے تو حاکم آپ کے انتظار میں تھا۔ وہ بھی باہر نکلا، آپ سے ملا اور کہنے لگا اب تو آپ باہر آ گئے، اب مجھ سے مانگیں جو مانگتے ہیں۔ تو سالم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: بتائو میں تجھ سے دین مانگوں یا دنیا مانگوں۔ وہ حاکم دین تو کہہ نہیں سکتا تھا اس لئے کہ دین میں تو سالم رحمۃ اللہ علیہ بہت آگے بڑھے ہوئے تھے۔ اپنے وقت کے اکابرین میں سے تھے۔ تو اس نے کہا آپ مجھ سے دنیا مانگیں۔ جب اس نے یہ کہا تو سالم بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا جس ذات نے دنیا کو پیدا کیا دنیا تو میں نے اس سے بھی نہیں مانگی میں تجھ سے دنیا کیا مانگوں گا۔
یہ حضرات جب بیت اللہ میں وقت گزارتے تھے تو وہ اللہ سے اپنی سب امیدیں لگایا کرتے تھے۔(ج 29ص83)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

