جو دم غافل سو دم کافر
ہمارے بزرگوں نے کہا کہ جو دم غافل سو دم کافر۔ جو سانس غفلت میں گزر گیا سمجھو وہ سانس کفر کی حالت میں گزر گیا۔ جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک پرندہ پالا ہوا تھا ایک دن اس کو چھوڑ دیا تو کسی نے پوچھا کہ حضرت بڑے شوق سے پرندہ پالا ہوا تھا چھوڑ کیوں دیا کہنے لگا اس نے مجھ سے کہا کہ جنید چھوڑ دو میں ایک نصیحت کروں گا آپ کو میں نے نصیحت کی طلب میں اس کو چھوڑا جب پنجرے سے نکالا تو میں نے پوچھا کہ نصیحت کیا کرتے ہو کہنے لگا جب تک پرندہ اللہ کا ذکرکرتا رہتا ہے وہ آزاد رہتا ہے اورجب وہ غافل ہوتا ہے تو اس کو پنجرے میں بند کردیا جاتا ہے۔ میں غافل ہوا تھا اس لئے تم نے مجھے پنجرے میں بند کردیا مگر جنید رحمۃ اللہ علیہ میں جاتے ہوئے نصیحت یہ کر رہا ہوں کہ میں تھوڑی دیر غافل ہوا تو مجھے اتنی جیل کاٹنی پڑی تم جو غفلت کی زندگی گزارتے ہو تمہیں کتنی جیل کاٹنی پڑے گی۔ اللہ اکبر جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ پرندے کو یاد کرتے تھے غفلتوں میں دن گزر رہے ہیں، غفلتوں میں راتیں گزر رہی ہیں۔
(ج 30ص189)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

