جب میں نے رشوت سے توبہ کی
مجھے محکمہ میں ملازم ہوئے ابھی چند روز ہی ہوئے تھے کہ ایک دن حسب معمول میں دفتر میں کام کر رہا تھا کہ ایک بڑے میاں آئے اور نہایت خوشامدانہ لہجہ میں مجھ سے کہنے لگے بیٹا! میرے مکان کا کلیم گم ہوگیا ہے ۔ اور عدالت میں مجھے اس کی نقل پیش کرنی ہے۔ اس لئے اپنے ریکارڈ سے کاپی نکال دو تاکہ اس کی نقل کروا کے عدالت میں پیش کرسکوں۔ پچاس روپے لگیں گے۔ میں نے اس کی طرف دیکھئے بغیر کہا ۔ جیب میں پھوٹی کوڑی تک نہیں پچاس روپے کہاں سے لاؤں…؟ اس نے مردہ سی آواز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ جیب خالی ہے تو میں کیاکروں میں نے تو ترش روئی سے جواب دیا اور اپنے کام میں مصروف ہوگیا۔ کچھ دیر بعد سر اٹھا کر دیکھا تو وہ جا چکے تھے۔ دوسرے روز میں ابھی دفتر میں داخل ہوا ہی تھا کہ وہی بڑے میاں آئے اور پچاس روپے میری طرف بڑھاتے ہوئے بولے کہو بابوجی اب تو کام ہو جائے گا۔ قبل اس کے کہ میں انہیں کچھ جواب دیتا۔ میری نظر ان کے چہرے پر پڑی۔ بڑے میاں کی آنکھوں سے آنسو نکل کر داڑھی میں جذب ہو رہے تھے اور انہیں صاف کرنے کی کوشش میں مصروف تھے۔ میں نے رونے کی وجہ پوچھی پہلے تو وہ پس و پیش کرتے رہے۔ مگر میرے اصرار پر انہوں نے بتایا کہ کل یہاں سے جا کر اپنی جواں سال بیٹی کے کانٹے جو میں نے چند آنے روزانہ کی بچت کرکے اس کی شادی کے لئے بنوائے تھے ۔ فروخت کر دیئے۔ تاکہ آپ کا خرچ پورا کرسکوں اس سے آگے وہ کچھ نہ کہہ سکے۔ میں اٹھ کر فائل سے اس کی کاپی نکال دی اور جبراً وہ روپے ان کی جیب میں ٹھونس دیئے۔ ان کے جاتے ہی میں نے عہد کیا کہ آئندہ کبھی رشوت نہ لوں گا۔ مجھے محسوس ہو رہا تھا جیسے بڑے میاں کے ضعیف و ناتواں بازوؤں نے مجھے دوزخ کے دہانے سے کھینچ لیا ہے۔ کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد ہے: ۔
ترجمہ
۔’’ رشوت لینے والا اور رشوت دینے والا دونوں دوزخی ہیں۔ ‘‘ (ماخوذ از البلاغ )
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

