جب آنکھ کھلے گی

جب آنکھ کھلے گی

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جن امور کے بارہ میں انسانیت کی ذہن سازی کی ہے ان میں ایک بنیادی امر یہ بھی ہے کہ دنیا اور اس کی جملہ نعمتیں اور تمام اسباب راحت فانی ہیں۔ اس دنیا کی زندگی ایک مسلمان کیلئے سرائے تو ہے لیکن منزل نہیں۔
دنیا کی یہ چند روزہ زندگی آزمائش کی وہ گھڑیاں ہیں جو ہر انسان ہر حالت میں گزار رہا ہے۔ دنیا اور اس کی رنگینیاں ایسی جاذب نظر اور خطرناک ہیں کہ اگر توفیق الٰہی کارفرما نہ ہو تو اس جائے آزمائش میں ثابت قدم رہنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔
اس پرفتن دور میں جبکہ دنیا میں رہنا بھی ہے لیکن اس کے شرور سے خود کو بچانا بھی ہے تو بچائو کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟
یہ سوال ہر مسلمان کیلئے (جو دین پر عمل پیرا ہونا چاہتا ہے) کس قدر اہمیت کا حامل ہے یہ ظاہر وباھر ہے۔
اس سوال کا جواب یہی دیا جاسکتا ہے کہ ہر مسلمان اپنا تعلق اللہ تعالیٰ سے مضبوط رکھے۔ تو دنیا کے حوادثات وفتن سے محفوظ رہا جاسکتا ہے اس کے علاوہ کہیں جائے پناہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ سے صحیح تعلق کیلئے ضروری ہے کہ اللہ والوں کی صحبت و مجالست اختیار کی جائے جس کی برکت سے دنیا بھی خوشحال وخوشگوار بسر ہوگی اور آخرت میں بھی نجات کا ذریعہ ہوگی۔ اللہ والوں سے تعلق کا یہ بھی کرشمہ ہے کہ ایسا شخص جب دنیا کا کام بھی کرے گا تو اس میں برکت ونورانیت ہوگی اس کے برعکس دوسرا شخص جو اہل اللہ کی صحبت سے محروم ہے وہ کسی عظیم دینی کام کو بھی سرانجام دے گا تو برکت ونورانیت نہیں ہوگی اور وہ اس دینی کام کو بھی دنیاوی رنگ میں کرے گا۔
اللہ والوں سے تعلق کی برکت سے زندگی کا مقصد متعین ہوگا اور ہر ہر قدم شریعت کے مطابق ادا کرنے کی ہمت وقوت نصیب ہوگی پھر ایسا شخص اپنی طبعی وجسمانی ضروریات وخواہشات کو بھی ادا کریگا تو موجب ثواب ہوگا۔
دنیا ایسا منقش سانپ ہے جسے بے بصیرت لوگ خوبصورت رسی سمجھ کرپکڑنے کیلئے دوڑ رہے ہیں۔ جبکہ اہل بصیرت ہی سمجھ سکتے ہیںکہ یہ دنیا کس کس طرح لوگوں کو اپنے دام فریب میں پھنساتی ہے کہ آدمی نہ دنیا کا رہتا ہے نہ آخرت کا۔ اس لئے دنیا میں رہتے ہوئے اس کے ضرر سے بچنے کی یہی صورت ہے کہ جس طرح ہم جسمانی امراض کیلئے معا لجین سے برابر رابطہ رکھتے ہیں اور ان کی ہدایات‘ دوا اور پرہیز کا خیال رکھتے ہیں‘ اسی طرح یہ اللہ والے روحانی معالج ہیں جو اللہ کے فضل وکرم سے ہر جگہ موجود ہیں بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر طلب پیدا کریں اور صحیح اللہ والوں کی جستجو میں رہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ نصرت خداوندی خود دستگیری نہ کرے اور ہم اس پرفتن دور میں بھی صحیح اللہ والوں کی صحبت سے مستفید ہوسکتے ہیں۔
یہ دنیا دارالامتحان ہے بظاہر ہماری آنکھیں روشن لیکن دل مردہ ہوچکے ہیں۔ جب موت کی چادر تان دی جائیگی اس وقت آنکھ کھلے گی تب معلوم ہوگا کہ دنیا کی یہ چند روزہ زندگی کس کام کیلئے دی گئی اور ہم نے نفس وشیطان اور ماحول کی رو میں بہتے ہوئے کن کاموں میں گنوائی۔
دینداری اور عقلمندی کا تقاضہ یہی ہے کہ ہم دنیا کی اس زندگی میں آنکھوں کے ساتھ اپنے دل کی آنکھیں بھی کھولیں اور کسی روحانی معالج سے باقاعدہ رابطہ رکھتے ہوئے اللہ کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کریں۔

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more