جبراً چندہ وصول کرنا حرام ہے
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ بزرگوں نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص مجمع میں سوال کرنے پر دو روپیہ دے اور تنہائی میں ایک روپی دیتا تو اس میں ایک روپیہ حلال ہے، ایک حرام ہے۔ یہی قاعدہ چندہ میں بھی ہے مگر چندہ میں قصداً یہ تدبیر کی جاتی ہے کہ مجمع میں تحریک کی جائے تاکہ جو شخص ایک روپیہ دیتا تو وہ شرما شرمی میں پانچ روپے دے۔ تو یاد رکھو یہ صورت بالکل ناجائز ہے، مگر لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کے بغیر کام نہیں چلتا۔ میں کہتا ہوں کہ یہ بتلاؤ کہ مقصود کام ہے یا دین؟ اگر صرف کام ہی مقصود ہے تو منافقین *درک اسفل نار* میں کیوں ہوں گے حالانکہ وہ بھی جہاد وغیرہ کرتے تھے۔ معلوم ہوا کہ جس کام میں رضائے حق نہ ہو ، وہ کام ہی نہیں ۔ مسلمانوں کا اصل مقصود رضائے حق ہے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

