تہمت لگانے والی عورت کا عبرتناک واقعہ

تہمت لگانے والی عورت کا عبرتناک واقعہ

زرقانی ( شرح مؤطا امام مالکؒ ) میں ایک بڑا عجیب واقعہ لکھا ہے کہ مدینہ منورہ کے گردونواح میں ایک ڈیرے پر ایک عورت فوت ہو گئی، دوسری اسے غسل دینے لگی۔ جو غسل دے رہی تھی۔ جب اس کا ہاتھ مری ہوئی عورت کی راہ پر پہنچا تو اس کی زبان سے نکل گیا۔ میری بہنو! (جو دو چار بیٹھی ہوئی تھیں) یہ جو آج عورت مر گئی ہے اس کے تو فلاں آدمی کے ساتھ خراب تعلقات تھے۔ غسل دینے والی عورت نے جب یہ کہا تو قدرت کی طرف سے گرفت آ گئی۔ اس کا ہاتھ رات پر چمٹ گیا۔ جتنا کھینچتی ہے وہ جدا نہیں ہوتا۔ زور لگاتی ہے مگر ران ساتھ ہی آتی ہے۔ دیر لگ گئی۔ میت کے ورثاء کہنے لگے، بی بی جلدی غسل دو۔ شام ہونے والی ہے ہم نے جنازہ پڑھ کر اسے دفنانا بھی ہے۔ وہ کہنے لگی کہ میں تو تمہارے مردے کو چھوڑتی ہوں مگر وہ مجھے نہیں چھوڑتا۔ رات پڑ گئی مگر ہاتھ یونہی چمٹا رہا۔ دن آ گیا پھر بھی ہاتھ چمٹا ہوا۔ اب مشکل بنی تو اس کے ورثاء علماء کے پاس گئے۔ ایک مولوی سے پوچھتے ہیں۔ ہاں مولوی صاحب! ایک عورت دوسری مردہ عورت کو غسل دے رہی تھی اس کا ہاتھ میت کی ران کے ساتھ چمٹا رہا، اب کیا کیا جائے۔ وہ فتویٰ دیتا ہے کہ چھری کے ساتھ اس کا ہاتھ کاٹ دو غسل دینے والی عورت کے وارث کہنے لگے کہ ہم تو اپنی عورت کو معذور نہیں کرانا چاہتے، ہم اس کا ہاتھ نہیں کٹنے دیں گے۔ انہوں نے کہا، فلاں مولوی کے پاس چلیں۔ اس سے پوچھا تو وہ کہنے لگا کہ چھری لے کر مری ہوئی عورت کا گوشت کاٹ دیا جائے۔ مگر اس کے ورثاء نے کہا کہ ہم اپنا مردہ خراب نہیں کرنا چاہتے۔ تین دن اور تین راتیں اسی حالت میں مسلسل گزر گئے۔ گرمی بھی تھی دھوپ بھی تھی۔ بدبو پڑنے لگی۔ گردونواح کے کئی دیہات تک خبر پہنچ گئی۔ انہو ںنے سوچا کہ یہاں یہ مسئلہ کوئی حل نہیں کر سکتا۔ چلو مدینہ منورہ میں جاتے ہیں۔ وہاں حضرت امام مالکؒ اس وقت قاضی القضاۃ کی حیثیت میں تھے۔ وہ حضرت امام مالکؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے، حضرت! ایک عورت مری پڑی تھی اور دوسری اسے غسل دے رہی تھی، اس کا ہاتھ اس کی ران کے ساتھ چمٹ گیا، چھوٹتا ہی نہیں، تین دن ہو گئے، کیا فتویٰ ہے؟ امام مالکؒ نے فرمایا مجھے وہاں لے چلو۔ وہاں پہنچے اور چادر کی آڑ میں پردے کے اندر کھڑے ہو کر غسل دینے والی عورت سے پوچھا، بی بی جب تیرا ہاتھ چمٹا تھا تو تو نے زبان سے کوئی بات تو نہیں کہی تھی، وہ کہنے لگی میں نے اتنا کہا تھا کہ یہ جو عورت مری ہوئی ہے اسکے فلاں آدمی کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے۔ امام مالکؒ نے پوچھا، بی بی ! جو تو نے تہمت لگائی ہے کیا اس کے چار چشم دید گواہ تیرے پاس تھے۔ کہنے لگی نہیں۔ پھر فرمایا، کیا اس عورت نے خود تیرے سامنے اپنے بارے میں اقبال جرم کیا تھا؟ کہنے لگی، نہیں۔ فرمایا، پھر تو نے کیوں تہمت لگائی؟ وہ کہنے لگی کہ میں نے اس لئے کہہ دیا تھا کہ وہ گھڑا اٹھا کر اس کے دروازے پر گزر رہی تھی۔
یہ سن کر امام مالکؒ نے وہیں کھڑے ہو کر پورے قرآن میں نظر دوڑائی۔ پھر فرمانے لگے، قرآن پاک میں آتا ہے۔ جس کا ترجمہ یہ ہے:
’’ جو عورتوں پر ناجائز تہمتیں لگا دیتے ہیں ان کے پاس چار گواہ نہیں ہوتے ان کی سزا ہے کہ ان کو زور سے اسی کوڑے مارے جائیں‘‘
تو نے ایک مردہ عورت پر تہمت لگائی، تیرے پاس کوئی گواہ نہیں تھا میں وقت کا قاضی القضاۃ حکم کرتا ہوں، جلادو! اسے مارنا شروع کر دو۔ جلادوں نے اسے مارنا شروع کر دیا۔ وہ کوڑے مارتے جا رہے ہیں، ستر کوڑے مارے مگر ہاتھ یونہی چمٹا رہا، پچھتر کوڑے مارے مگر ہاتھ پھر بھی یونہی چمٹا رہا، اناسی کوڑے لگے تو ہاتھ پھر بھی نہ چھوٹا، جب اسی واں کوڑا لگا تو اس کا ہاتھ خود بخود چھوٹ کر جدا ہو گیا۔
اس واقعہ سے ان خواتین حضرات کو عبرت حاصل کرنی چاہئے جو کہ بلا سوچے سمجھے پاک دامن لوگوں پر الزام تراشی کرتے رہتے ہیں اگر وہ اس جرم سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ آج بھی ان کی گرفت پر قادر ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دین پر پورا پورا عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائیں۔ آمین! ( شمارہ نمبر13)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more