تقلید میں راحت ہے
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ ہم تقلید شخصی کو فی نفسہٖ واجب یا فرض نہیں کہتے بلکہ یوں کہتے ہیں کہ تقلیدشخصی میں دین کا انتظام ہوتا ہے اور ترک ِ تقلید میں بے انتظامی ہوتی ہے ۔ ترکِ تقلید کی حالت میں اگر تمام مذاہب سے احوط (زیادہ احتیاط والے عمل) کو تلاش کر کے عمل کرے گا تو مصیبت میں رہے گا اور اگر آسان کو تلاش کرے گا تو غرض پرستی میں پڑ جائے گا۔ پس تقلید میں راحت بھی ہے اور نفس کی حفاظت بھی ہے۔(۳۱۳ اشرفی جواہرات، صفحہ ۲۴)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات اشرفی جواہرات کے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

