تقلید شخصی

تقلید شخصی

ارشاد فرمایا کہ نفس کی آزادی اور بے راہ روی کا علاج تقلید شخصی سے بہتر کوئی نہیں ۔ ہمارے استاد حضرت مولانا محمد یعقوب صاحبؒ تو اپنے معاصرین کی بھی تقلید کرتے تھے۔ صوفیائے کرام کی اصطلاح میں تقلید شخصی ہی کا نام وحدت مطلب ہے یعنی کسی ایک شیخ کو اپنا مربی و مصلح بنا کر تمام معاملات میں اسی کے تابع عمل کیا جائے۔ مختلف مشائخ اور بزرگوں کے اعمال پر نظر ڈال کر اپنے لئے کوئی راہ عمل تجویز کرنے والا نفس کے دھوکے سے کبھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔(ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر ۲۴)

Most Viewed Posts

Latest Posts

تقلید کا دور کبھی ختم نہیں ہو سکتا

تقلید کا دور کبھی ختم نہیں ہو سکتا حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔۔’’اجتہاد فی الدین کا دور ختم ہو چکا توہو جائے مگر اس کی تقلید کا دور کبھی ختم نہیں ہو سکتا‘ تقلید ہر اجتہاد کی دوامی رہے گی خواہ وہ موجودہ ہو یا منقضی شدہ کیونکہ...

read more

طریق عمل

طریق عمل حقیقت یہ ہے کہ لوگ کام نہ کرنے کے لیے اس لچر اور لوچ عذر کو حیلہ بناتے ہیں ورنہ ہمیشہ اطباء میں اختلاف ہوتا ہے وکلاء کی رائے میں اختلاف ہوتا ہے مگر کوئی شخص علاج کرانا نہیں چھوڑتا مقدمہ لڑانے سے نہیں رکتا پھر کیا مصیبت ہے کہ دینی امور میں اختلاف علماء کو حیلہ...

read more

اہل علم کی بے ادبی کا وبال

اہل علم کی بے ادبی کا وبال مذکورہ بالا سطور سے جب یہ بات بخوبی واضح ہوگئی کہ اہل علم کا آپس میں اختلاف امر ناگزیر ہے پھر اہل علم کی شان میں بے ادبی اور گستاخی کرنا کتنی سخت محرومی کی بات ہے حالانکہ اتباع کا منصب یہ تھا کہ علمائے حق میں سے جس سے عقیدت ہو اور اس کا عالم...

read more