تسکین بخش واقعہ
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ اُن کا بیٹا آٹھ نو سال کا تھا، بہت خوبصورت اور ہونہار تھا … اور ظاہر بات ہے کہ ماں باپ کی توقعات اولاد ہی سے وابستہ ہوتی ہیں، اولاد اُن کی زندگی کا سہارا ہوتی ہے، غرض ان کو بہت زیادہ محبت تھی اور توقعات بھی تھیں اور صورت شکل سے ہونہار معلوم ہوتا تھا، یہ بچہ بیمار ہوا، اس زمانے میں جو علاج ہوتا تھا، حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا لیکن بیماری بڑھتی گئی اسی حالت میں اُنہیں ایک دو دن کا سفر پیش آیا اور سفر بھی کوئی ضروری تھا، اس لیے جانے پر مجبور ہوئے تو بیوی سے یہ فرمایا کہ بچے کی تیمار داری پوری کی جائے اور علاج معالجے میں کوئی کمی نہ کی جائے اور میں پرسوں تک آجاؤں گا … حضرت جابر رضی اللہ عنہ روانہ ہوگئے … اُن کیغیر موجودگی میں جبکہ ان کے آنے کا دن تھا کہ بچے کا انتقال ہوگیا تو بیوی بھی صحابیہ تھیں۔ صاحب نسبت اولیاء میں تھیں، انہوں نے بچے کی لاش کمرے میں رکھی اور چادر سے ڈھانک دی اور باہر آکر بیٹھ گئیں۔
تھوڑی دیر بعد حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہنچے تو عرب کے قاعدے کے مطابق بیوی نے آگے بڑھ کر خاوند کا استقبال کیا۔ مصافحہ کرکے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ چومے۔ اُنہوں نے آتے ہی پوچھا کہ بچہ کیسا ہے؟ تو فرمایا کہ: ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ بِعَافِیَۃٍ وَخَیْرٍ‘‘ خدا کا شکر ہے بڑی عافیت اور خیریت میں ہے، گھبرانے کی کوئی بات نہیں، وہ مطمئن ہوگئے، ان کو کھانا کھلایا۔
کھانا کھلاتے ہوئے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ مجھے آپ سے شریعت کا ایک مسئلہ پوچھنا ہے … وہ مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ہمارے پاس امانت رکھوائے اور اس کی ایک میعاد مقرر کرے کہ برس دن کے بعد میں اپنی یہ چیز یا پیسہ واپس لے لوں تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ٹھیک مقررہ وقت پر اَدا کردینا چاہیے۔ تو کہا کہ ہم دیر لگائیں اور ٹال مٹول شروع کردیں۔ فرمایا کہ ہمیں کوئی حق نہیں … اگر ایسا ہوگا تو یہ خیانت ہے اور امانت داری کے خلاف ہے۔ کہا اگر ہم نے وقت پر ادا کردیا … مگر دل میں گھٹن پیدا ہوئی کہ ہم نے کیوں ادا کیا رکھ ہی لیتے … فرمایا گھٹنے کا تمہیں کیا حق ہے ، وہ چیز تمہاری کب ہے، اپنی چیز پر آدمی گھٹے ، دوسرے کی چیز پر گھٹن لانے کا کیا حق ہے؟ بلکہ فرمایا کہ شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ ٹھیک وقت پر امانت سے سبکدوش ہوگئے، کوئی خیانت نہیں ہوئی، جس کی چیز تھی اُسے پہنچ گئی ، کہا کہ شریعت کا مسئلہ یہی ہے … فرمایا … مسئلہ تو یہی ہے ۔ اس کے بعد فرمایا کہ:
’’وہ جو آپ کا بیٹا تھا وہ اللہ کی امانت تھی، اس نے ٹھیک آٹھ برس دو مہینے کے لیے ہمارے پاس بھیجا تھا۔ جب میعاد پوری ہوگئی تو قاصد آیا اور کہا کہ میری امانت میرے حوالے کردو، ہم نے حوالے کردی، اب ہمیں بیٹھ کر گھٹنا چاہیے؟ ہمیں غم میں مبتلا ہونا چاہیے ؟‘‘
بیوی کے ہاتھ چومے اور فرمایا کہ خدا تجھے جزائے خیر دے تونے میرے دل کو ایسا صبر دیا کہ بجائے غم کے مجھے خوشی ہے کہ امانت، امانت داری کے ساتھ ادا کردی گئی، وقت مقررہ پر ہم سبکدوش ہوگئے اور امانت مالک کو پہنچا دی۔ حقیقت حال یہی ہے کہ اللہ جب کسی نفس کو واپس لیتا ہے تو طبعی طور پر صدمہ اور غم ضرور ہوتا ہے … مگر عقل اور طبیعت دونوں بتلاتی ہیں کہ مالک کو اپنی ملک میں تصرف کا حق تھا، طبیعت کہتی ہے کہ جدائی کا غم ہے یہ تو چند روزہ جدائی ہے، پھر ہم وہیں جانے والے ہیں۔ اس سے آدمی کے اندر صبر اور سکون پیدا ہوتا ہے۔
حدیث میں ہے کہ میت عَالَم برزخ میں پہنچ کر ہر ہر رشتہ دار، عزیز اور پس ماندہ کی طرف متوجہ رہتا ہے کہ کون میرے لیے کیا کرتا ہے۔ اس کی مثال دی گئی کہ جیسے دریا میں کوئی ڈوبتا ہوا ایک ایک تنکے کا سہارا ڈھونڈتا ہے کہ شاید میں اس کی وجہ سے ڈوبنے سے بچ جاؤں، میت کی یہی کیفیت رہتی ہے تو عزیز و اقارب کی طرف اس کی آس لگی رہتی ہے کہ کوئی مجھے یاد کرتا ہے یا نہیں؟ کوئی اجر پہنچاتا ہے یا نہیں؟
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

