ترک دنیا کا اصل مفہوم
ترکِ دنیا کا لفظ جو کتابوں میں مشائخ نے لکھا ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دنیا سے چل کر غار میں چلے جائو اوروہاں بیٹھ کر اللہ کی عبادت کرو۔ ہمارے حضرت فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف راستہ جنگلوں اورغاروں سے ہو کر نہیں جاتا گلی کوچوں اوربازاروں سے ہو کر جاتا ہے۔ ہم نے اسی دنیا میں رہنا ہے اوراسی دنیا کی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہے مگر غافل نہیں ہونا، جو چیز اللہ سے غافل کرے وہ ہماری دشمن ہے۔ اس کو کہتے ہیں ترک دنیا۔ ترک دنیا کی حقیقت کیا ہے؟ ترک زینت دنیا ہے کہ دنیا کی زینت کو چھوڑ دینا، انسان جو کرے اللہ کے لئے کرے۔
سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ ہر دن نیا قمیص پہنا کرتے تھے لیکن وہ زاہد تھے، اس لئے کہ وہ اپنے لئے نہیں پہنتے تھے ، ایک امیر آدمی نے وعدہ لیا تھا کہ میں آپ کو تحفہ دیا کروں تو آپ انکار نہیں کریںگے، چنانچہ وہ روزانہ نیا لباس سلوا کے تحفہ دیتا تھا، آپ پہن لیتے تھے۔ جب اگلے دن نیا لباس ملتا تھا تو پرانا لباس اللہ کے راستے میں صدقہ کر دیتے تھے۔ تین سو پینسٹھ کپڑے ایک سال میںبدلتے تھے اور وہ زاہدین میں سے تھے۔(ج 34ص196)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھا سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

