تربیت اولاد میں ماں کا کردار

تربیت اولاد میں ماں کا کردار

امام محمد غزالی رحمہ اللہ اور احمد غزالی رحمہ اللہ دونوں بھائی تھے۔ان کی تربیت ان کی والدہ نے کی کیونکہ یہ دونوں لڑکپن میں یتیم ہوگئے تھے۔والدہ کی تربیت سے دونوں نیکوکار بنے۔ان میں سے اما م محمد غزالی رحمہ اللہ علم قال میں بلند مرتبہ رکھتے تھے مگر ان کے دوسرے بھائی احمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ علم حال میں بہت بڑھے ہوئے تھے۔وہ ایک صاحب کشف انسان تھے۔
امام محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ مسجد میں نماز پڑھاتے مگر ان کے بھائی احمدغزالی رحمۃ اللہ علیہ اکیلے اپنی نماز پڑھ لیتے تھے اور اما م کے پیچھے پڑھنے سے گھبرایاکرتے تھے۔ یہ بات لوگوں کی سمجھ سے بالاتر تھی۔ایک دن امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی والدہ سے کہا‘امی!میں اس مسجد کا امام ہوں اور بڑاخطیب ہوں مگر لوگ مجھ پراعتراض کرتے ہیں کہ جب اس کا اپنا بھائی اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا تو پھر اسکی امامت کیسی ہے؟ماں نے جب یہ سنا تو احمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ سے کہا‘بیٹے!تم اپنے بھائی کے پیچھے نماز پڑھ لیا کرو۔چنانچہ ماں کے حکم کی وجہ سے وہ امام محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ کے پیچھے نمازپڑھنے کیلئے چلے گئے۔امام محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے نماز پڑھانا شروع کی۔احمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے پہلی رکعت تو انکے پیچھے پڑھی مگر دوسری رکعت میں نماز توڑ کر واپس آگئے۔اب امام محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی پوزیشن پہلے سے بھی زیادہ خراب ہوگئی۔نماز پڑھنے کے بعد بڑے رنجیدہ ہوئے۔لوگوں کی عجیب وغریب باتیں انہیں سننا پڑیں۔
گھر میں آکر انہوں نے اپنی والدہ کو بتایا کہ بھائی نے تو آج میری ناک ہی کٹوادی۔ ماں نے احمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ کو بلا کر پوچھا‘بیٹا!تونے میری بات کیوں نہ مانی؟کہنے لگے‘امی آپ نے کہا تھا کہ ان کے پیچھے نماز پڑھنا۔میں آپ کے حکم کی وجہ سے ان کے پیچھے نماز پڑھنے لگا‘جب تک یہ نماز پڑھارہے تھے میں پیچھے پڑھتا رہا اور جب یہ نماز پڑھانے کی بجائے کچھ اور سوچنے لگے تو میں نماز توڑ کرواپس آگیا۔
ماںنے امام محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا‘بیٹے! تم نے کیا سوچاتھا؟امام محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور کہا‘امی!میں معافی مانگتا ہوں‘مجھ سے واقعی بڑی غلطی ہوگئی‘میں نماز پڑھانے سے پہلے عورتوں کے کچھ مسائل پڑھ رہا تھا اور ان مسائل میں غوروفکر کر رہا تھا۔ جب نماز کا وقت ہوا تو پہلی رکعت میں نے توجہ الی اللہ کے ساتھ پڑھائی مگردوسری رکعت میں عورتوں کے وہی مسائل میرے دماغ میں آگئے اور میں تھوڑی دیر کیلئے انہی مسائل کے بارے میں سوچنے لگ گیا۔
اس وقت ماں نے کہا‘افسوس!کہ تم دونوں میں سے کوئی بیٹا میرے کام کا نہ بنا۔جب انہوں نے ماں کی یہ بات سنی تو دونوں بھائی تڑپ اٹھے اور کہنے لگے‘ امی!ہم دونوں آپ کے کام کے کیسے نہ بنے؟کہنے لگیں‘ ایک تو نماز میں کھڑاعورتوں کے مسائل سوچ رہا تھا اور دوسرا اس کے پیچھے کھڑا اس کے دل کودیکھ رہا تھا‘دونوں میں سے کوئی بھی اللہ کی طرف متوجہ نہ تھا۔ سبحان اللہ‘یہ ماں کی تربیت تھی جس نے ان کو وقت کا اما م غزالی رحمۃ اللہ علیہ بنادیا۔ (شمارہ ۶۳)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more