تجلیات کا طواف کون کرتے ہیں؟
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں طواف کر رہا تھا میں نے ایک نوجوان لڑکی کو دیکھا کہ بہت ہی عاشقانہ اشعار پڑھ رہی ہے اور وہ بھی جہراً پڑھ رہی ہے تو مجھے برا لگا کہ نوجوان بچی کو تو ایسے عاشقانہ اشعار نہیں پڑھنے چاہئیں۔ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کو منع کیا کہ اے بچی! نوجوان العمر نظر آتی ہے تیرا اس طرح اشعار پڑھنا گرم گرم جذبے والے جو اشعار ہوتے ہیں وہ تو مناسب نظر نہیں آتا۔ وہ میری طرف متوجہ ہو کر کہنے لگی: حسن مجھے اتنا بتا دے آپ اس بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں یا رب البیت کی تجلیات کا طواف کر رہے ہیں؟ جب اس نے یہ پوچھا تو میں نے اس کو جواب دیا کہ اے بچی میں تو اسی بیت کا طواف کر رہا ہوں۔ جب میں نے یہ کہا تو وہ مسکرا کر کہنے لگی: کہ اچھا جن کے دل پتھر ہوتے ہیں وہ پتھر کے گھر کا طواف کرتے ہیں اور جن کے دل زندہ ہوتے ہیں وہ تو ان تجلیات کا طواف کر رہے ہوتے ہیں۔
کاش! اللہ تعالیٰ ہمیں بھی وہ جذبہ عطا فرمادیں اور ہم بھی یہاں سے جانے سے پہلے کچھ اللہ سے مان کے جائیں اور کچھ منوا کے جائیں۔(ج 29ص95)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

