تاقیامت معیار شخصیت رہے گا
باقی ان حضرات کے بعد کسی طبقہ کو طبقہ کی حیثیت سے نام لے کر معیار حق نہیں فرمایا ، البتہ معیار حق ہونے کا ایک کلی ضابطہ اور معیاری اوصاف کا تعین فرما دیا گیا ہے۔ جنہیں سامنے رکھ کر معیاری افراد کو ہر زمانے میں فی الجملہ متعین کیا جاسکتا ہے۔
اس سے انکار نہیں کہ قرون مشہودہ کے بعد بشری کمزوریوں کے امکانات بھی رہے اور ایسی کمزوریوں کا گاہے بگاہے عملاً ظہور بھی ہوا ، لیکن ایسی گاہے بگاہے کمزوریوں سے معیاری شخصیتوں کے معیار ہونے میں فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ اول تو اتقیاء اُمت میں سے کسی کی زندگی کو پاکباز زندگی کہنے کیلئے یہ کافی ہے کہ غالب زندگی تقویٰ و طہارت کی ہو۔ بھول ، چوک ، نسیان و ذہول اور گاہے بگاہے ارادی کمزوری انسانی خمیر میںہے۔
دوسرے بعد کے لوگ صرف بایں معنی معیار حق و باطل ہوتے ہیں کہ ان کی مجموعی زندگی کو سامنے رکھ کر اپنے لئے دینی راہ عمل کا خاکہ بنالیا جائے اور اسے ان کے پارسایا نہ عمل کے خاکہ پر منطبق کر کے اپنے حق و باطل ہونے کا فیصلہ کیا جائے ، بایں معنی معیار حق ہونے کو انکا ہر قول و فعل حجت شرعی ہو تو اس قسم کے مقدس افراد اور معیاری لوگ ہر دور میں ہوتے رہیں گے اور اُمت کیلئے مینارۂ روشنی ثابت ہوتے رہیں گے ۔ چنانچہ حضرت شیخ نے معیاریت کے ایسے اوصاف پر بھی کتاب و سنت سے روشنی ڈالی اور اس لئے روشنی ڈالی ہے کہ راہ رشدوہدایت میں محض لٹریچر سے رہنمائی نہیں ہوسکتی جب تک کہ وہ شخصیتوں کے کردار کے جامہ میں سامنے نہ آئے۔
ورنہ کتب سماویہ کے ساتھ انبیاء علیہم السلام کو مبعوث فرمائے جانے کی ضرورت نہ ہوتی درحالیکہ خود کتب سماوی کے معانی و مرادات کی تعیین کیلئے بھی معیارِ حق یہی مقدس ہستیاں ہوئی ہیں وہ نہ ہوں تو کتب الٰہیہ کے معنی متعین کرنے میں ہر بوالہوس آزاد ہو جائے اور حق و باطل کا کوئی فیصلہ کبھی نہ ہوسکے۔ اس لئے قیامت تک رسول خدا صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد ایسی معیاری شخصیتوں کا بنام ، مجدد ، محدث ، امام ، مجتہد ، راسخ فی العلم ، فقیہ وغیرہ کا آتے رہنا ضروری ہے جس کے معیار سے اُمت کے عوام و خواص اپنے دینی عقیدہ و کردار کو جانچتے رہیں اور فی الجملہ ان پر اپنے کو منطبق کر کے روحانی سکون و طمانیت حاصل کرتے رہیں۔
پس مودودی صاحب تو رسولِ خدا صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی انسان کو معیار حق ماننے کیلئے تیار نہیں۔ لیکن کتاب و سنت کا فیصلہ یہ ہے کہ رسولِ خدا صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک معیاری شخصیتیں آتی رہیں گی جو درجہ بدرجہ حق و باطل کا معیار ثابت ہوتی رہیں گی اور جو بھی کتاب و سنت کے الفاظ سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی سعی کرے تو ایسی شخصیتیں اپنے اپنے دور کے مناسب حال عنوانوں سے ان کی تاویلاوت کا پردہ چاک کر کے اصل حقیقت کا چہرہ دکھاتی رہیں گی۔
جیسا کہ ارشاد نبوی صلی اﷲ علیہ وسلم ہے:۔
’’یَحمِلُ ھَذَا الْعِلْمَ مِنْ کُلِّ خَلَفٍ عُدُوْلُہٗ یَنْفَوْنَ عَنْہُ تَحْرِیْفَ الْغَالِیْنَ وَانْتحَالَ المُبْطِلِیْنَ وََاوِیْلَ الْجَاھِلِیْن ‘‘
’’اس علم (دین) کو (ہر دور میں) اعتدال پسند خلف (اپنے سلف سے) لیتے رہیں گے جو غلو پسندوں (اور حدود و اعتدال سے گزر جانے والوں) کی تحریفوں ، باطل پرستوں کی دروغ بیانیوں اور جہلاء کی (رکیک) تاویلوں کو رد کرتے رہیں گے‘‘۔
اگر توفیق خداوندی شامل حال ہوئی تو ان معیاری شخصیتوں اور ان کے معیار ہونے کی شانوں کی تفصیل آئندہ کسی دوسرے مقالہ میں کی جا سکے گی۔
بہرحال حضرت شیخ رحمہ اﷲ کے مکتوب گرامی میں اہم اور بنیادی نکتہ بحث بھی معیاریت غیر رسول کا مسئلہ ہے جس کو مودودی صاحب نے اصولی طور پر اپنے بنیادی دستور میں رد کر دیا ہے اور شیخ نے اسے اہل حق کی بنیاد قرار دیا ہے۔
جس سے یہ اختلاف فروعی نہیں بلکہ اصول بن گیا۔ خدا کرے کہ مودودی صاحب اور ان کے رفقاء کار اس خلیج کو پاٹ دینے کی ہر ممکن تدبیر عمل میں لائیں۔ کسی تحریک کو چلانے کیلئے بنیادی اختلافات پیدا کر لینا خود تحریک کو اپنے ہاتھوں ختم کر دینا ہے۔ فروعی باتیں تو اتفاق و اختلاف دونوں راستوں سے چلتی رہتی ہیں ، لیکن اصولی اختلاف اور صرف نظر ایک طرف میں جمع نہیں ہوسکتے۔
