بیوی کی بد مزاجی
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ (میرے امتیوں میں سے ) جس شخص نے اپنی بیوی کی بدمزاجی پر صبر کیا تو اللہ تعالیٰ اسے اتنا اجر دے گا۔۔۔ جتنا حضرت ایوب علیہ السلام کو ان کے صبر کرنے پر دیا ہے اور جس عورت نے اپنے شوہر کی بداخلاقی وغصہ پر صبر کیا۔۔۔ اسے اتنا ثواب ملے گا ۔۔۔جتنا ثواب فرعون کی بیوی حضرت آسیہ کو عطا ہوا ہے۔۔۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں خودبھی عورتوں کے غصہ وناگواری پر صبر کرتا ہوں۔۔۔ تم بھی مجھ جیسے بن جائو۔۔۔ (الحدیث احیاء العلوم جلد ۲ قسط ۱ ص ۱۰۷ باب النکاح)
ایک عورت نہایت ہی بدمزاج ’’کج خلق‘‘ منہ پھٹ۔۔۔ بدزبان تھی حضرت مرزا جان جان صاحبؒ کو الہام ہوا کہ اگر اس بدمزاج اور زبان دراز عورت سے نکاح کرو اور اس کی بدزبانی اور ایذا دہی پر صبرکرو گے توتم کو نواز دیا جائے گا ۔۔۔اور تمہارا رتبہ بلند کیا جائے گا۔۔۔ حضرت نے فوراً پیام بھیج دیا اور اس سے نکاح کر لیا۔۔۔ وہ عورت اس درجہ تند خو۔۔۔ بدخصلت۔۔۔ سخت دل اور زبان دراز تھی کہ شاید کوئی اور مشکل سے ہاتھ آئے۔۔۔ حضرت مرزا صاحبؒ خوشی خوشی دولت خانہ تشریف لے جاتے ۔۔۔۔اور وہ سڑی سڑی سنانی شروع کر تی۔۔۔۔ حضرت چپکے بیٹھے سنتے رہتے۔۔۔
زبان سے اف تک نہ نکالتے اندر ہی اندر گھلتے‘ آخر واپس تشریف لے آتے تھے۔۔۔ آپ کا معمول تھا کہ روزانہ صبح ہوتے ہی خادم کو حکم فرماتے کہ جائو دروازہ پر حاضر ہو کر میرا سلام عرض کر دو اور پوچھو کوئی کار خدمت ہو تو انجام دیا جائے۔۔۔ بموجب ارشاد خادم آستانہ پر حاضر ہوتا اور شیخ کا سلام پہنچا کر مزاج پرسی کرتا‘ وہ نیک بخت بجائے شرم کے جواب کے گالیاں سناتی اور وہ وہ گندی باتیں بکتی تھی کہ سننے والے شرما جاتے تھے اور اظہار کرنیکی تہذیب اجازت نہیں دیتی۔
مگر مرزا صاحبؒ کی خادم کو تاکید تھی کہ اہلیہ کی شان میں گستاخی نہ ہونے پائے کسی بات کا جواب مت دینا جو کچھ فرمائیں سن لینا۔۔۔ ایک روز کوئی ولایتی خادم اس خدمت پر مامور ہوا ہرچند اس کو تاکید تھی کہ جواب نہ دیا جائے۔۔۔ مگر بے چارہ ضبط نہ کر سکا۔۔۔ جب دروازہ پر پہنچ کر حضرت کا سلام پہنچایا۔۔۔ مزاج پرسی کی تو عورت نے بکنا شروع کیا۔۔۔ کہ پیر بنا بیٹھا ہے اور مرید بناتا پھرتا ہے ۔۔۔۔اسے یوں کروں اور وہ کروں ہرچند کہ ولایتی نے ضبط کی کوشش کی۔۔۔۔
مگر آخر کہاں تک۔۔۔ پیر کو گالیاں نہ سن سکا اور غصہ میں آ کر کہا بس چپ رہ ورنہ گردن اڑا دوں گا۔۔۔ اس جواب پر وہ نیک بخت اور آگ بگولہ ہو گئی اب لگی ہونے تو تو میں میں۔۔۔ شور وغل کی آواز جو مرزا صاحبؒ کے کان میں پہنچی۔۔۔ تو گھبرا اٹھے اور جلدی سے ولایتی کو واپس بلا بھیجااس کو بٹھایا اور فرمایا تم ناواقف ہو۔۔۔ یہ کہہ کر دوسرے خادم کو بھیجا۔۔۔ وہ گالیاں سن کر واپس آ گیا۔
حضرت مرزا صاحبؒ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ میں اس عورت کا بہت مشکور ہوں۔۔۔ اور بیحد احسان مند ہوں۔۔۔۔ کہ اس کے باعث مجھے بہت نفع پہنچا ہے۔۔۔ (ارواح ثلثہ ۔ص ۲۸)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

