بیوی کو علیحدہ مکان دینے کا مطلب اور اس کی آسان صورت
ملفوظاتِ حکیم الامت مجددالملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ اتنی گنجائش ہے کہ اگر بیوی کو پورا گھر نہ دے سکے تو بڑے گھر میں سے ایک کوٹھری یا ایک کمرہ ایسا دینا کہ اس کی ضروریات کو کافی ہوسکے اور وہ اس میں اپنا مال و اسباب (سامان) مقفل کرکے ( تالہ وغیرہ لگا کر ) رکھ سکے اور آزادی سے اپنے میاں کے ساتھ تنہائی میں اٹھ بیٹھ سکے، بات چیت کرسکے۔ یہ واجب کے ادا کرنے کے لئے کافی ہوگا۔ چولہا تو ضرور ہی علیحدہ ہونا چاہئے ، زیادہ تر آگ اس چولہے ہی سے بھڑکتی
ہے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ عبدالمتین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

