بیوگان اور مطلقہ عورتوں کو جینے کا حق دیں (68)۔
اولاد کا نکاح تاخیر سے کرنا بہت بڑا ظلم ہے۔ یہ نہ صرف اولاد پر بلکہ معاشرہ پر بھی ظلم ہے اور ان گنت فسادات اورخرابیوں کا باعث ہے۔ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی میں جب تاخیر ہوتی ہے تو وہ یقیناًدوسرا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ جس سے بے حیائی اور بے غیرتی کو فروغ ملتا ہے۔
ایک معاملہ تو یہ اولاد کے نکاح کا ہے اسکے علاوہ جو ظلم بیوہ اور مطلقہ عورتوں کے ساتھ اس معاشرہ میں ہورہا ہےوہ ناگفتہ بہ ہے۔ اگر کسی عورت کا خاوند فوت ہوگیا یا کسی بھی مجبوری کی وجہ سے اُسکو طلاق ہوگئی تو تقاضا یہ تھا کہ جونہی اسکی عدت پوری ہو تو رشتہ تلاش کریں اور پھر نکاح کے بعد رخصت کردیں۔ کیونکہ کنواری لڑکی کا صبر نسبتاً آسان ہوتا ہے جبکہ مطلقہ یا بیوہ کے لئے صبرسے رہنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ بالخصوص اگر اسکے بچے بھی ساتھ ہوں تو اسکے لئے علیحدہ زندگی گزارنا ایسا ہوتا ہے جیسے کسی کو جیتے جی جہنم میں ڈال دیا جائے۔
اسمیں ایک بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ متعلقین یعنی بھائی، والد یا پھر رشتہ دار یہ کہتے ہیں کہ ہماری یہ عزیزہ تو شادی کے لئے کہتی ہی نہیں ہے تو گویا اسکو ضرورت نہیں ہے۔ حالانکہ یہ بہت بڑی غلطی ہے۔ عورت کبھی بھی بڑھ چڑھ کر شادی کے لئے نہیں کہتی بلکہ اُسکی طبیعت میں شرم و حیا کا تقاضا ہے کہ اگر پوچھا جائے تو بھی منع کردے۔ مگر متعلقین کو سمجھنا چاہئے کہ ایک فطری اور طبعی ضرورت سے کسی بھی انسان کو استثناء نہیں ہوسکتا۔ اس لئے سمجھدار لوگ وہ ہوتے ہیں جو بیوہ یا مطلقہ کے رشتہ میں جلدی کرتے ہیں۔ وہ اپنی بہن، بیٹی یا عزیزہ کے سچے محسن اور خیرخواہ ہیں۔
ورنہ جو لوگ اسمیں کوتاہی کرتے ہیں ،وہ بڑے ناسمجھ ہیں۔ وہ اس احساس کو کیوں نہیں سمجھتے ؟؟
کہ جو بہن یا بیٹی اُنکے سامنے ہنسی خوشی زندگی گزار رہی ہے وہ کیسے سسک سسک کر راتیں گزارتی ہے۔ وہ کس طرح گھٹ گھٹ کر مررہی ہے۔ وہ کیسے افراد سے بھرے خاندان میں خودکو تنہااورخالی محسوس کرتی ہے۔
تو دوستو! بیواؤں کے نکاح میں جلدی کرو۔ اس سنت کو زندہ کرو۔ کسی بھی بیوہ یا مطلقہ کو عدت ختم ہونے کے بعد اکیلا نہ رہنے دو۔ بظاہر اگر وہ منع بھی کرے تواُسکوسمجھاناچاہئے اوراُسکے ساتھ حقیقی خیرخواہی یہی ہےکہ اُسکو جینے کا حق دیا جائے۔ جیون ساتھی کے بغیر اُسکی زندگی کو اجیرن نہ کیاجائے۔
کیونکہ ایک عورت جس طرح اپنے احساسات اور جذبات کا اظہار اپنے خاوند سے کرسکتی ہے وہ دنیا کے کسی بھی مرد سے نہیں کرسکتی۔ دنیا کا کوئی بھی رشتہ اُسکے دکھ کی دوا نہیں ہوسکتااوراُسکے دل میں موجود خلا کو پر نہیں کرسکتا۔ یہ ایک قدرتی حقیقت ہے
اکثر بیوگان اور مطلقہ عورتیں خود ہی شادی سے یہ کہہ کر انکار کردیتی ہیں کہ اب ہم یوں ہی گزارا کرلیں گی لیکن شادی نہیں کریں گی۔ یہ بات بھی انتہائی مایوسی اور پریشانی کا اظہار ہے جس کا ایک ہی حل ہے کہ اُنکی شادی کسی اچھی جگہ پر جلدی سے کروا دی جائے تاکہ مایوسی ختم ہو اور اگلی زندگی کی بہاریں وہ دیکھ کر باقی عمر کو خوشگوار بنا سکیں ۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ عطا فرمائے ۔ آمین۔
نوٹ : یہ ’’آج کی بات‘‘ ایک بہت ہی مفید سلسلہ ہے جس میں حذیفہ محمد اسحاق کی طرف سے مشاھدات،خیالات اور تجربات پر مبنی ایک تحریر ہوتی ہے ۔ یہ تحریر ہماری ویب سائٹ
Visit https://readngrow.online/ for FREE Knowledge and Islamic spiritual development.
پر مستقل شائع ہوتی ہے ۔ ہر تحریر کے عنوان کے آگے ایک نمبر نمایاں ہوتا ہے ۔ جس اسکی قسط کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ کون سی قسط ہے ۔ پچھلی قسطیں بھی ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں ۔ اگر کوئی پیغام یا نصیحت یا تحریر آپکو پسند آتی ہے تو شئیر ضرور کریں ۔ شکریہ ۔
مزید اپڈیٹس کے لئے ہمارے واٹس ایپ چینل کو ضرور فالو کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb0Aaif4o7qSPFms4g1M

