بیعت کرنے میں عجلت نہ کرنی چاہیے
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جو آوے اس کو بیعت کر لیا جاوے ورنہ کسی بدعتی پیر کے ہاتھ میں پھنس جائے گا ۔ میں کہتا ہوں کہ میں نے اپنے اس فعل سے اس کو بدعتی کے ہاتھ میں پھنسنے سے روکا ہے کیونکہ میرے اس دیر کا حاصل یہ ہے کہ یہ کام سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے ، جلدی نہ کرے اور بالفرض اگر خاص وہ ایک شخص کسی بدعتی کے یہاں پھنس بھی گیا تو دوسرے پچاسوں آدمی سوچ سمجھ کر پیر تجویز کریں گے اور بدعتیوں سے بچیں گے ، سمجھیں گے کہ جلدی کرنا اچھا نہیں۔ پس میرا یہ فعل تو بدعتیوں سے دور رہنے کا سبب ہے نہ کہ ان کے پاس جانے کا ذریعہ ۔ غرض ہم اس کے پھنسنے کا سبب نہیں ہیں ، وہ خود اپنے فعل کا مباشر بالاختیار ہے(یعنی اس کام کو اپنے اختیار سے خود کرنے والا ہے)۔(آداب ِ شیخ و مرید، صفحہ ۲۳۶)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات شیخ و مرید کے باہمی ربط اور آداب سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

