بیت اللہ کے پڑوس کی عظمت
ایک مرتبہ حضرت مرشد عالم رحمۃ اللہ علیہ یہاں تشریف لائے تو فرماتے ہیں ایک عربی بچہ تھا وہ ہمارے خیمے میں آتا اور ہم اسے روٹی، کھانا وغیرہ دے دیتے۔ وہ بہت پیارا بچہ تھا وہ بار بار آتا تو اس سے ہمیں انس ہو گیا اور وہ ہم سے کافی مانوس ہو گیا۔ فرماتے ہیں جب ہمارے جانے کا دن قریب آیا تو وہ بچہ بھی غمگین غمگین نظر آتا۔ میری اہلیہ اسے بتاتیں بس اب ہم چلے جائیں تو اس کا چہرہ بڑا اداس نظر آتا۔ ایک دن میری اہلیہ نے اس سے کہا اگر تو ہمارے ساتھ آنا چاہے توہم تجھے اپنا بیٹا بنا لیتے ہیں تو ہمارے ساتھ چل وہاں ہمارے ملک میں تو بجلی کے پنکھے بھی ہیں اور کھانے پینے کی ساری نعمتیں بھی ہیں ہم تجھے پڑھائیں گے بھی، پالیں گے اور تجھے اپنے بچوں کی طرح رکھیں گے اور تجھے ایسی ایسی کھانے پینے کی ہر ہر نعمت وہاں ملے گی۔ جب اس نے اچھی طرح ترغیب دے کر بات کی تو بچے نے ساری بات غور سے سنی اور سننے کے بعد کہنے لگا: اچھا یہ بھی ہو گا، یہ بھی ہو گا یہ سب کچھ وہاں ہو گا؟ تو میری اہلیہ نے کہا جی یہ سب کچھ وہاں ہو گا۔ اس کے بعد اس نے بیت اللہ کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اشارہ کرکے کہنے لگا کیا یہ بھی وہاں ہو گا؟ تو میری اہلیہ نے کہا یہ تو وہاں نہیں ہو گا۔ جیسے ہی اس بچے نے سنا بیت اللہ وہاں نہیں ہو گا تو وہ کہنے لگا میں کبھی بھی وہاں نہیں جا سکتا۔ میں بیت اللہ شریف کے پڑوس کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا۔ چھوٹے بچے بھی اتنا مجاہدہ کرتے پھر بھی ان کو بیت اللہ شریف کے ساتھ اتنی محبت ہوتی تھی۔(ج 29ص84)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

