بچوں کی تربیت کا منفرد انداز
جرمنی میں ہمارے دوست ہیں۔۔۔ ان کی بیوی ہے‘ نو مسلم یونانی لڑکی۔۔۔ یونانی بڑے پکے عیسائی ہوتے ہیں۔۔۔ وہ اس کی دعوت سے مسلمان ہوئی۔۔۔ پھر دونوں میں شادی ہوگئی۔۔۔ میں جرمنی گیا تھا دو سال پہلے۔۔۔ وہ بتانے لگے چار سال کا میرا بچہ‘ چار سال بھی کوئی ہوتی ہے بچے کی۔۔۔ ننگ دھڑک بھاگ رہے ہوتے ہیں۔۔۔ کوئی عورت باہر سے آجائے تو وہ بھاگ کے کمرے میں چلا جاتا ہے کہ عورت آگئی میں نے پردہ کرنا ہے۔۔۔ چار سال کے بچے کا اس ماں نے ایسا ذہن بنادیا ہے۔۔۔ پھر اگر اس کے بیٹے شرارت کریں تو ہم کہتے ہیں تیری پٹائی کریں گے۔۔۔ تجھے مرغا بنادیں گے۔۔۔ تجھے چھترپھیر دیں گے اور اپنے بچوں کواس نے کیا تربیت دی ہے۔۔۔ میں حیراں ہوں کہ میں نے تو آج تک کوئی ایسی مسلمان نہیں دیکھی۔۔۔ وہ ان کو ڈراتی ہے ارے اگر تم نے شرارت کی تو میں تمہیں ڈاکٹر بنا دوں گی تو وہ رونے بیٹھ جاتے ہیں۔۔۔ ہمیں عالم بنانا۔۔۔ ہمیں ڈاکٹر نہ بنانا‘ ارے تم باز نہیں آئو گے تو تمہیں انجینئر بنادوں گی۔۔۔ وہ کہتے ہیں نہیں نہیں ہمیں معاف کردو۔۔۔ ہم نے عالم بننا ہے۔۔۔ ہم نے انجینئر نہیں بننا۔۔۔ ادھر ہمارے ماں باپ کہتے ہیں تجھے ڈاکٹر بنائیں گے تو بڑا آدمی بن جائے گا۔۔۔ تجھے انجینئر بنائیں گے تو بڑا آدمی بن جائے گا۔۔۔ ایک ماں اپنے بچے کے اندر دین کی اتنی عظمت پیدا کرسکتی ہے۔۔۔ ایک ماں اپنے بچے کو دین پر اتنا اونچا لے جاسکتی ہے۔۔۔
شیخ عبدالقادر جیلانیؒ قافلے میں علم حاصل کرنے کیلئے جارہے تھے۔۔۔ چودہ سال کی عمر تھی‘ راستے میں ڈاکہ پڑ گیا۔۔۔ انہوں نے لوٹ لیا‘ یہ بچے تھے‘ کسی کو خیال نہیں آیا کہ ان کے پاس کچھ ہوگا۔۔۔ ایک ڈا کو نے ایسے ہی سر راہ پوچھا‘ بیٹا تیرے پاس کچھ ہے؟
کہا: ہاں ہے۔۔۔ کیا ہے؟ کہا چالیس دینار ہیں۔۔۔ چالیس دینار کا مطلب تھا کہ وہ پورے ایک سال کا راشن ہے‘ تو بہت بڑی دولت تھی۔۔۔ چالیس دینار تو حیران ہوگیا کہنے لگا: کہاں ہیں؟کہا یہ میرے اندر سیئے ہوئے ہیں۔۔۔ اندر کے آستین میں۔۔۔ اس نے کہا: بچہ اگر تو مجھے نہ بتاتا تو مجھے کبھی خبر نہ ہوتی کہ تیرے پاس ہیں‘ تو نے کیوں بتادیا؟ کہا: میری ماں نے مجھے کہا تھا بیٹا سچ بولنا ہے جان چلی جائے‘ اب یہ ماں کا سبق ہے ناں اور جب ماں کو ہی نہ پتہ ہوکہ سچ بولنے میں نجات ہے تو وہ بچے کو کیا بتائے گی؟
تووہ ڈاکو اس کو پکڑ کر ڈاکوئوں کے سردار کے پاس لے گیا کہ سردار اس بچے کی بات سنو! توساری کہانی سنائی تو سردار نے کہا: بیٹا! کیوں تو نے بتادیا؟ نہ بتاتا تو ہمیں کوئی پتہ چلتا‘ مجھے میری ماں نے کہا تھا: جھوٹ نہ بولنا‘ سچ بولنا چاہئے جان چلی جائے۔۔۔ اس پر ڈاکوئوں کا سردار اتنا رویا کہ اس کی داڑھی آنسوئوں سے تر ہوگئی کہ اے اللہ! یہ معصوم بچہ اپنی ماں کا اتنا فرمانبردار ہے اور میں پورا مرد جوان ہوکر تیرا نافرمان ہوں۔۔۔ مجھے معاف کردے‘ سارے ڈاکوئوں سے توبہ ہوئی‘ اس کا ذریعہ وہ ماں بن گئی جو گیلان میں بیٹھی ہوئی ہے‘ جس کوپتہ بھی نہیں ہے کہ اس کا بچہ کہاں سے کہاں تک پہنچ گیا ہے۔۔۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اولاد کی صحیح تربیت کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔ آمین۔۔۔
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

