بعض امورِ باطنہ مرض نہیں لیکن لوگ ان کو مرض سمجھتے ہیں
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ باطن کے بعض امور ایسے ہیں کہ وہ مرض نہیں مگر لوگ خواہ مخواہ ان کو مرض سمجھتے ہیں مثلاً خیالات آنے کو لوگ برا سمجھتے ہیں اور جو سمجھایا جاوے کہ اس سے کچھ حرج نہیں تو سمجھانے سے مانتے ہی نہیں بلکہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ویسے ہی ٹال دیا ہے۔اس کی تو ایسی مثال ہے جیسے کوئی طبیب سے کہے کہ حکیم جی دھوپ میں چلتا ہوں تو میرا بدن گرم ہوجاتا ہے ، مجھے یہ مرض ہے اور حکیم جی شفقت سے یہ جواب دیں کہ بھائی یہ مرض نہیں ہے مگر وہ کہے کہ نہیں حکیم جی یہ تو مرض ہے۔(آداب ِ شیخ و مرید،صفحہ ۱۱۱)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات شیخ و مرید کے باہمی ربط اور آداب سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

