بت فروش نہیں بت شکن
تاریخ میں یہ واقعہ پوری صحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جس وقت سلطان محمود نے سومنات کے بت کو پاش پاش کرنے کا ارادہ کیا تو اس وقت برہمنوں کے طبقے نے معززین سلطنت کے توسط سے سلطان سے درخواست کی کہ اس بت کو نہ توڑا جائے اور یونہی چھوڑ دیا جائے۔۔۔۔ ہندوئوں نے اس کے عوض دولت کی ایک بہت بڑی مقدار دینے کا وعدہ کیا۔۔۔۔ معززین سلطنت نے ہندوئوں کی اس درخواست کو سلطان تک پہنچاتے وقت یہ خیال ظاہر کیا کہ اس درخواست کو قبول کر لینے میں ہمارا فائدہ ہے۔۔۔۔ بت کو توڑ ڈالنے سے نہ تو بت پرستی کی رسم اس شہر سے مٹ سکتی ہے اور نہ ہمیں کوئی فائدہ ہو گا لیکن اگر ہم اس بت کو نہ توڑنے کے معاوضے میں کوئی معقول رقم قبول کر لیں گے تو اس سے غریب مسلمانوں کا فائدہ ہو جائے گا۔۔۔۔ اس کے جواب میں محمود نے ان سے کہا۔۔۔۔ تم جو کہتے ہو وہ صحیح ہے۔۔۔۔ لیکن اگر تمہارے کہنے پر چلوں گا تو میرے بعد دنیا مجھے ’’محمود بت فروش‘‘ کے نام سے یاد کرے گی۔۔۔۔ اور اگر میں اس بت کو پاش پاش کروں گا تو مجھے ’’محمود بت شکن‘‘ کے نام سے یاد کرے گی۔۔۔۔ مجھے تو یہی بہتر معلوم ہوتا ہے کہ دنیا اور آخرت میں مجھے محمود بت شکن پکارا جائے۔۔۔۔ نہ کہ محمود بت فروش۔۔۔۔ محمود کی نیک نیتی اسی وقت رنگ لائی۔۔۔۔ جس وقت اس بت کو توڑا گیا تو اس کے پیٹ میں سے ان گنت اور بیش قیمت جواہر اور اعلیٰ درجے کے موتی نکلے۔۔۔۔ ان سب جواہرات کی قیمت برہمنوں کی پیش کردہ قیمت سے سو (۱۰۰) گنا زیادہ تھی۔۔۔۔(عالمی تاریخ جلد۱)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

