ایک کمیونسٹ کا اعتراض اور اس کا جواب
جس دور میں ہم یونیورسٹی میں پڑھے ہیں اس دور میں سوشلزم ، کمیونزم کا بڑا ہی نعرہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ کوئی کہتا تھا: ایشیا سرخ ہے۔ کوئی کہتا تھا: ایشیا سبز ہے۔ یہی باتیں چلتی رہتی تھیں۔ واقعی لوگ یہی کہتے تھے کہ کمیونزم آیا، آیا لوگوں کو ڈر لگتا تھا کہ کمیونزم کب آئے گا؟
اس زمانے میں یونیورسٹی کے بہت سے لڑکے دہریے بن گئے اور وہ کہتے تھے: ہم اس بات پر یقین نہیں کرتے کہ خدانے انسان کو پیدا کیا ہے۔ بلکہ وہ تو الٹا یہ کہتے تھے: انسان نے خدا کے تصورکو پیدا کر لیا ہے۔ وہ اس قسم کی باتیں کرتے تھے۔ ہم بھی وہیں یونیورسٹی کے اندر ہی رہتے تھے۔
ایک دن ایک ایسا لڑکا جو اس گروپ کا بڑا تھا، میرے پاس آیا۔ وہ مجھے کہنے لگا۔
میں آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں کہ آپ کلاس میں پوزیشن لیتے ہیں اور ایک ہونہار طالب علم ہیں۔ یعنی ایک سمجھدار مولوی ہیں۔ آپ میری بات کو سمجھیں گے۔ میں نے کہا: جی! بات کیجئے۔
وہ کہنے لگا: یہ کیا بات ہوئی کہ ایک مسلمان اگر کوئی نیکی کرے تو اس کو اس کا اجر آخرت میں جا کر ملے گا اور اگر کوئی کافر نیکی کرے تو کہتے ہیں کہ دنیا میں تو اجر ملے گا لیکن آخرت میں کوئی اجر نہیں ملے گا۔ یہ تو نا انصافی ہے۔ حالانکہ آپ کا دعویٰ ہے کہ دین اسلام عدل و انصاف کا دین ہے۔
دیکھیں! کافر بھی تو کئی نیکیاں کرتے ہیں نا، جیسے کسی غریب کی مدد کی، کسی کا دکھ بانٹا، تو جو بھی یہ نیکی کے کام کرے اس کو اجر تو ملنا چاہئے۔ مگر قرآن مجید نے ان کے بارے میں تصور یہ دیا ہے۔کہ ان کو اجر توملے گا لیکن اسی دنیا میں ملے گا آخرت میں ان کو اجر نہیں ملے گا۔ اس کو اس پر اعتراض تھا۔ وہ کہنے لگا کہ یہ کیسا انصاف ہے کہ مسلمان کو تو آخرت میں اجر ملے گا اور کافر کو بالکل ہی نہیں ملے گا۔
میں نے کہا: آپ ذرا اس بات پرغور کریں کہ دو سٹوڈنٹ ہیں وہ دونوں سٹوڈنٹ استاد کو کہتے ہیں: آپ نے ہمیں اعداد لکھنے سکھائے ہیں۔ ہم سے آپ کچھ اعداد لکھوائیں۔ پھر استاد کہتا ہے: اچھا بھئی! لکھو۔ ان میں سے ایک سٹوڈنٹ 1 کا ہندسہ لکھتا ہے اور اس کے بعد اس کی دائیں طرف تین صفریں لگا دیتا ہے۔ اس کے اعداد کو دیکھ کر استاد کہتا ہے: ہاں جی! اعداد کی قدر ہے ایک ہزار۔ اور دوسرا سٹوڈنٹ 1کا ہندسہ لکھنا تو بھول جاتا ہے اور وہ ویسے ہی تین مرتبہ زیرو لکھ دیتا ہے۔ تو اس کی کیا قدر بنی؟ صفر بنی۔ اب ایک جیسی سیاہی خرچ ہوئی، ایک جیسے اعداد لکھے گئے اور ایک جیسا ٹائم خرچ ہوا۔ ہم کہتے ہیں کہ ان میں سے ایک کی ویلیو ہے اور دوسرے کے لکھے ہوئے کی قدرصفر ہے۔ بھئی! ہم ایسا کیوں کہتے ہیں؟
اس نے جواب دیا: اس نے پہلے 1 کا عدد لکھ دیا تھا۔ اور 1لکھنے کی وجہ سے ہر زیرو کے لکھنے سے اس کی قدر بڑھتی چلی گئی۔
میں نے کہا: بس! بات سمجھ میں آ گئی ہے کہ یہ 1جو ہے، یہی اللہ پر ایمان ہے۔ جو بندہ کلمہ پڑھ کے اللہ پر ایمان لے آیا، اب اگر وہ اعمال کی زیرو لگاتا جائے گا تو اس کا وزن بڑھتا چلا جائے گا اور جو بندہ اللہ پر ایمان ہی نہیں لایا، گویا وہ ایک کا ہندسہ لکھنا ہی بھول گیا۔ اب وہ نیکیوں کی جتنی بھی زیرو لگاتا چلا جائے گا، اس کا جواب کیا نکلے گا؟ زیرو۔(ج 29ص275)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

