ایک ملکہ کی عالی ظرفی
تیسرے عباسی خلیفہ مہدی کی چہیتی بیوی تھی، بڑی دانشمند نیک طینت اور مخیر خاتون تھیں اپنے اوصاف حمیدہ کی بدولت شوہر کے مزاج پر پوری طرح حاوی تھی اس کی سفارش پر خلیفہ مہدی نے بنی امیہ کے بہت سے معتوب امیروں کی ضبط شدہ جاگیریں واپس دے دی ۔ اس کی زندگی کا ایک دلچسپ واقع جسے کئی مؤرخین نے بیان کیا ہے، یہ ہے ۔
ایک دن ملکہ خیزاران اپنے محل میں بڑی شان و شوکت سے بیٹھی تھی کہ ایک لونڈی نے آ کر عرض کیا۔
۔’’ملکہ عالم ! محل کی ڈیوڑھی کے دروازے پر ایک نہایت ہی شکستہ حال غریب عورت کھڑی ہے اور آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کچھ کہنا چاہتی ہے۔‘‘۔
ملکہ نے کہا، ’’اس عورت کا حسب و نسب دریافت کرو اور یہ بھی معلوم کرو ک اسے کس چیز کی ضرورت ہے۔‘‘
لونڈی نے باہر پ کر غریب عورت سے بہتیرا پوچھا لیکن اس نے نہ اپنے نسب اور خاندان کا پتہ دیا اور نہ یہ بتایا کہ وہ ملکہ سے کیوں ملنا چاہتی ہے اس کا بس ایک ہی جواب تھا کہ وہ جو کہنا چاہتی ہے خود ملکہ سے زبانی کہے گی۔
لونڈی نے اندر آ کر ملکہ کو اس عورت کا جواب سنایا تو وہ بہت حیران ہوئی ، اس وقت حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی پڑپوتی زینب بنت سلیمان بھی اس کے پاس بیٹھی تھیں وہ بنو عباس کیخواتین میں بہت دانا تسلیم کی جاتی تھیں، ملکہ نے ان سے مشورہ کیا کہ اس عورت کو اندر آنے دوں یا ملنے سے انکار کر دوں۔
انہوں نے کہا ’ضرور بلوائو، بھلا دیکھیں تو وہ کیا چاہتی ہے۔‘‘۔
چنانچہ ملکہ نے لونڈی کو حکم دیا کہ اس عورت کو اندر لے آئو۔
تھوڑی ہی دیر میں ملکہ کے سامنے پھٹے پرانے کپڑے پہنے ایک انتہائی شکستہ حال عورت کھڑی تھی اس کے دل کش خدو خال سے معلوم ہوتا تھا کہ کوئی شریف زادی ہے لیکن میل کچیل اور بوسیدہ کپڑوں نے اس کی حالت گدا گروں سے بھی بدتر بنا رکھی تھی، وہ عورت پہلے تو ملکہ کا کرو فر دیکھ کر ٹھٹکی مگر پھر فورا ہی جرأت کر کے ملکہ کو سلام کیا اور کہنے لگی۔
’’اے ملکہ ! میں مروان بن محمد کی بیٹی مزنا ہوں جو خاندان بنو امیہ کا آخری تاجدار تھا۔‘‘
جونہی اس عورت کے منہ سے یہ الفاظ نکلے ملکہ خیزران کا چہرہ فرط غضب سے سرخ ہو گیا اور اس نے کڑ کر کہا، ’’اے بد بخت عورت! تجھے یہ جرأت کیسے ہوئی کہ اس محل کے اندر قدم رکھے؟ کیا تو نہیں جانتی کہ تیرے اہل خاندان نے عباسیوں پر کیسے خوفناک مظالم ڈھائے؟ اے سنگدل! کیا تو وہ دن بھول گئی جب بنو عباس کی بوڑھی عورتیں تیرے پاس یہ التجاء لے کر گئی تھیں کہ تو اپنے باپ سے سفارش کر کے میرے شوہر (مہدی) کے چچا امام محمد بن ابراہیم عیاسی کی لاش دفن کرنے کی اجازت لے دے، کم بخت عورت خدا تجھے غارت کرے تو نے ان معزز اور مظلوم خواتین پر ترس کھانے کی بجائے انہیں ذلیل کر کے محل سے نکلوا دیا کیا تیری یہ حرکت انسانیت کی توہین نہیں تھی؟ مانا کہ آپس میں دشمنی تھی لیکن پھر بھی ایک بے بس اور لاچار دشمن کے ساتھ ایسا سلوک جائز نہ تھا، خدا کا شکر ہے کہ اس نے تم سے حکومت چھین لی اور تمہیں ذلیل کیا، مزنا خیریت اسی میں ہے کہ تم یہاں سے فوراً دفع ہو جائو!‘‘۔
مزنا ملکہ کی باتیں سن کر بالکل مرعوب نہ ہوئی بلکہ اس نے ایک زور کا قہقہہ لگایا اور بولی، ’’بہن! اپنے آپے سے باہر نہ ہو جو کچھ میں نے کیا خدا سے اس کی سزا پا لی، خدا کی قسم جو کچھ تم نے کہا ہے وہ سچ ہے اسی کی پاداش میں خدا نے مجھے ذلیل و خوار کر کے تمہارے سامنے لا کھڑا کیا ہے کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کسی وقت میں تم سے زیادہ شوخ اور شریر تھی، دولت اور حشمت میرے گھر کی لونڈی تھی مجھے اپنے حسن پر ناز تھا اور تکبر نے مجھے اندھا کر رکھا تھا مگر تم نے دیکھا کہ جلد ہی زمانے نے اپنا ورق الٹ ڈالا خدا نے اپنی تمام نعمتیں مجھ سے چھین لیں، اب میں ایک فقیر سے بھی بدتر ہوں کیات م چاہتی ہو کہ تمہارے ساتھ بھی یہی کچھ ہو؟ اچھا خوش رہو، میں جاتی ہوں۔‘‘
اتنا کہہ کر مزنا نے تیزی سے باہر کا رخ کیا لیکن ابھی چند قدم جانے پائی تھی کہ خیزران نے دوڑ کر اسے پکڑ لیا اور چاہا کہ گلے سے لگا لے لیکن مزنا نے پیچھے ہٹ کر کہا، ’’خیزران تم ملکہ ہو اور میں ایک غریب اور بے کس عورت میرے کپڑے بوسیدہ اور غلیظ ہیں میں اس قابل نہیں کہ ایک ملکہ مجھ سے بغل گیر ہو۔‘‘
خیزران نے آبدیدہ ہو کر لونڈیوں کو حکم دیا کہ مزنا کو نہلا دھلا کر اعلیٰ درجے کی پوشاک پہنائو اور پھر اسے عطر میں بسا کر میرے پاس لائو۔
لونڈیوں نے ملکہ کے حکم کی تعمیل کی اس وقت مزنا کو دیکھ کر یوں معلوم ہوتا تھا کہ چاند بدلی سے نکل آیا ہے خیزران بے اختیار اس سے لپٹ گئی، اپنے پاس بٹھایا اور پوچھا۔
’’دسترخوان بچھوائوں؟‘‘
مزنا نے کہا۔ ’’ملکہ آپ پوچھتی کیا ہیں، شاید مجھ سے زیادہ اس محل میں اور کوئی بھوکا نہ ہو گا۔‘‘
فوراً دسترخوان بچھ گیا، مزنا سیر ہو کر کھا چکی تو ملکہ نے پوچھا، ’’آج کل تمہارا سرپرست کون ہے؟‘‘۔
مزنا نے آہ سرد بھر کر کہا ’’آج کس میں ہمت ہے کہ میری سرپرستی کرے، مدتوں سے در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہو کوئی رشتہ دار بھی دنیا میں موجود نہیں کہ اس کے ہاں جا پڑوں بس کچھ قرابت ہے تو وہ اسی گھرانے (بنو عباس) سے ہے۔‘‘
خیزران نے فورا کہا، ’’مزنا آزردہ مت ہو آج سے تم میری بہن ہو۔‘‘ میرے بہت سے محل ہیں تم ان میں سے ایک محل پسند کر لو اور یہیں رہو جب تک میں جیتی ہوں، تمہاری ہر ضرورت پوری کروں گی۔‘‘۔
چنانچہ مزنا نے ایک عالی شان محل پسند کر لیا اور خیزران نے اس میں تمام ضروریات زندگی اور لونڈی غلام مہیا کر دئیے ساتھ ہی پانچ لاکھ درہم نقد بھی اس کے حوالے کیے کہ جس طرح جی چاہے خرچ کرے۔
شام کو خلیفہ مہدی حرم میں آیا اور دن بھر کے حالات پوچھنے لگا ملکہ خیزران نے اسے آج کا واقعہ تفصیل سے سنانا شروع کیا، جب اس نے بتایا کہ میں نے مزناکو اس طرح جھڑکا اور وہ قہقہ لگا کر شان بے نیازی کے ساتھ واپس چل دی تو خلیفہ فرط غضب سے بے تاب ہو گیا اور اس نے ملکہ کی بات کاٹ کر کہا:
۔’’خیزران تم پر ہزار افسوس ہے کہ خدا نے تمہیں جو نعمتیں عطا کی ہیں تم نے ان کا شکریہ ادا کرنے کا ایک بیش بہا موقع ہاتھ سے کھو دیا، تمہاری یہ حرکت ایک ملکہ کے شایان شان نہیں تھی۔‘‘۔
خیزران نے کہا ، ’’ایمر المؤمنین! میری پوری بات تو سن لیں اس کے بعد جب اس نے مزنا کے ساتھ اپنے حسن سلوک کی تفصیل بتائی تو مہدی کا چہرہ چمک اٹھا، اس نے خیزران کی عالی ظرفی کو بہت سراہا اور کہا آج سے میری نظر میں تمہاری قدر دو چند ہو گئی ہے، پھر اس نے اپنی طرف سے بھی مزنا کو اشرفیوں کے سو توڑے بھیجے اور ساتھ ہی کہلا بھیجا کہ آج میری زندگی کا سب سے بڑا یوم مسرت ہے کہ اس نے ہمیں تمہاری خدمت کی توفیق دی، اب تم اطمینان سے یہاں رہو۔
اس کے بعد مزنا طویل عرصہ تک زندہ رہی، مہدی کی وفات ۱۶۹ھ ۷۸۵ء کے بعد اس کا بیٹا ہادی بھی مزنا کی بے حد تعظیم و تکریم کرتا تھا ہادی کے بعد ۱۷۰ھ ۷۸۶ء میں ہارون الرشید خلیفہ بنا تو اس نے بھی مزنا کو ماں کے برابر سمجھا، اس کے عہد خلافت کی ابتداء میں مزنا نے وفات پائی تو ہارون الرشید بچوں کی طرح بلک بلک کر رویا اور اس کے جنازے کو شاہانہ شان و شوکت کے ساتھ قبرستان پہنچایا۔
ملکہ خیزران کے بطن سے مہدی کے دو بیٹے موسیٰ ہادی اور ہارون الرشید پیدا ہوئے، جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے یہ دونوں باپ کی وفات کے بعد یکے بعد دیگرے خلیفہ ہوئے، بد قسمتی سے خلیفہ ہادی ماں کا اطاعت گزار نہ نکلا، اس نے ملکہ خیزران کو ان تمام اختیارات سے محروم کر دیا جو اس کو خلیفہ مہدی کے زمانے میں حاصل تھے مگر اس کا زمانہ حکومت بہت مختصر تھا اس نے پندرہ ماہ بعد وفات پائی اور ہارون الرشید مسند نشین ہوا، اس نے ماں کے تمام اختیارات بحال کر دئیے اور اس کے اعزاز و اکرام میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔
ملکہ خیزران بہت فیاض اور رحم دل تھی کوئی مصیبت میں مبتلا ہوتا تو اس کی مصیبت دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتی اس طرح غریبوں محتاجوں اور ضرورت مندروں کی دل کھول کر مدد کرتی رہتی تھی اس لئے وہ عوام الناس میں بے حد ہر دلعزیز تھی اور وہ اس کا نام نایت عزت و احترام کے ساتھ لیتے تھے، اس نیک دل ملکہ نے بعہد ہارون الرشید ۱۷۳ھ ۷۸۹ء میں وفات پائی۔ (ازمثالی خواتین شمارہ ۵۵)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

