ایک عورت کا انوکھا صبر

ایک عورت کا انوکھا صبر

ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ میں طواف کر رہا تھا، ایک عورت کو دیکھا کہ وہ کہہ رہی تھی: اللہ! میں اس حال میں بھی میں آپ سے راضی ہوں۔ بار بار یہ الفاظ کہہ رہی تھی: اے اللہ! میں اس حال میں بھی آپ سے راضی ہوں۔ کہنے لگے کہ مجھے حیرانی ہوئی جب اس عورت نے طواف مکمل کیا تو میں نے اس سے پوچھا کہ اللہ کی بندی! تیرے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا؟ تو جو بار بار کہہ رہی ہے کہ اللہ! اس حال میں بھی تجھ سے راضی ہوں۔ وہ کہنے لگی کہ میں تین بیٹوں کی ماں گھر میں روٹیاں پکا رہی تھی، چھوٹا بیٹا میرے ساتھ کھیل رہا تھا۔ اچانک میں نے کمرے سے آواز سنی چیخنے چلانے کی، میں دوڑ کے وہاں گئی تو میں نے دیکھا کہ میرے بڑے بیٹے نے میرے چھوٹے درمیانے بیٹے کو ذبح کردیا تھا۔ اور ذبح کیوں کیا؟ ایک دن پہلے میرے خاوند نے بکری کو ذبح کیا تھا اور وہ چھری کہیں پڑی ہوئی تھی ، تو دونوں بھائیوں نے اسے دیکھا تو بڑا کہنے لگا کہ دیکھا: ابو نے اس چھری سے بکری کو ذبح کیا تھا، چھوٹے نے کہا: اچھا! اس نے کہا: میں تمہیں بتائوں کہ کیسے کیا تھا؟ اس نے کہا: بتائو! تو چھوٹا لیٹ گیا اور بڑے کو سمجھ ہی نہیں تھی کہ چھری چلانے سے ہو گا کیا؟ اس نے چھری چلادی۔ جب گردن کٹی اور خون کا فوارا چھوٹا تو پریشان ہوا کہ یہ کیا بنا؟ کہنے لگی کہ جب میں وہاں پہنچی تو میرا درمیانہ بیٹا خون کے اندر لت پت ہو چکا تھا، بکرے کی طرح ذبح ہو چکا تھا۔ میں نے اس کی لاش کو ہاتھوں میں اٹھایا اور صحن میں لاکر ایک چار پائی پر ڈال دیا۔
اب میں نے سوچا کہ میرا بڑا بیٹا کہاں گیا؟ کیونکہ وہ کہیں بھاگ گیا تھا۔ اس منظر کے بعد اس کو ڈھونڈنے لگی تو میں نے دیکھا کہ صحن کے اندر جو لکڑیاں پڑی ہوئی تھیں جو میں نے جلانے کے لئے رکھی تھیں وہ ان لکڑیوں کے پیچھے چھپ گیا تھا۔ جب میں نے ان کے پیچھے دیکھا تو وہاں ایک سانپ تھا جس نے میرے اس بیٹے کو کاٹا تومیرا بیٹا وہاں مرا پڑا تھا۔ میں اس بیٹے کی بھی لاش لائی اور پہلے بیٹے کے ساتھ اس کو لٹا دیا۔
اب میں نے دیکھا کہ میرا تیسرا بیٹا نظر نہیں آرہا، جو چھوٹا رینگنے والا تھا، کرائولنگ کرنے والا۔ کہتے ہیں کہ میں واپس اپنے تنور کی طرف آئی تو میں نے دیکھا کہ میرا بیٹا تندور کے اندر گر چکا تھا، میںنے اس کی جلی ہوئی لاش نکالی اور تینوں لاشوں کو ایک جگہ لٹایا پھر ان کو نہلایا کفنایا اور ان کو دفنایا اور ان کو دفن کرنے کے بعد میں طواف کرنے آ گئی اور میں کہہ رہی ہوں کہ اللہ میں اس حال میں بھی تجھ سے راضی ہوں۔ سوچیں ذرا کہ لوگوں پر کیا کیا مصیبت گزریں۔(ج 28ص92)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more