ایک عبرت ناک واقعہ

ایک عبرت ناک واقعہ

ہمارے جھنگ کے علاقے میں ایک بڑے زمیندار کی اتنی لینڈ ہولڈنگ تھی کہ اس کی زمین میں تین ریلوے اسٹیشن بنے ہوئے تھے۔ پہلا ریلوے اسٹیشن بھی اس کی زمین میں، دوسرا بھی اس کی زمین میں، تیسرا بھی اس کی زمین میں، اتنا بڑا زمیندار تھا۔
ایک مرتبہ اپنے دوستوں کے ساتھ شہر کے چوک میں کھڑا آئس کریم کھا رہا تھا۔ کسی دوست نے کہہ دیا یار! کاروبار اچھا نہیں بڑا پریشان ہوں۔ تو یہ آگے سے بڑا ترنگ میں آ کر کہتا ہے یار! تم ہر وقت پریشان رہتے ہو آئے گا کہاں سے اور مجھے دیکھ میں ہر وقت پریشان رہتا ہوں لگائوں گا کہاں پہ۔ میری تو آنے والی چالیس نسلوں کو پرواہ نہیں۔
یہ عجب کا بول اتنا اللہ کو ناپسند آیا کہ یہ ایک بیماری میں مبتلا ہوا۔ چھ مہینے کے اندر خود اس دنیا سے چلا گیا۔ اس کا ایک ہی بیٹا تھا جس کی عمر سترہ، اٹھارہ سال تھی۔ وہ اکیلا اس کی تمام میراث کا وارث بن گیا۔ اربوں روپے اکاونٹ میں۔ جوانی بھی تھی۔ ایسے لوگوں کے برے دوست بہت جلدی بن جاتے ہیں۔ ایک، دو دوستوں نے اس کو عیاشی کی راہ بتائی۔ اس کے لئے ایک نیا تجربہ تھا۔ اس کو یہ کام بڑا اچھا لگا۔
چنانچہ یہ رات کو نئے نئے مہمان بدلنے لگ گیا۔ کسی کو پچاس ہزار دیا جا رہا ہے، کسی کو ایک لاکھ مل رہا ہے اور ایک سے ایک بہتر ماڈل آرہا ہے۔
لوگوں نے سمجھایا مگر یہ جوان تھا ، آگ کی عمر تھی اس نے سنا ہی نہیں۔ جب اس نے اپنے علاقے میں جی بھر کر برائی کرلی۔ کسی نے کہا ذرا بڑے شہر کا مزہ چکھو۔ بڑے شہر جانا شروع کردیا۔ کسی نے کہا ذرا باہر کے کلبوں میں جا کر دیکھو۔ چنانچہ اس نے بیرون ملک کے نائٹ کلبوں میں جانا شروع کردیا۔ شراب شباب کا عادی بن گیا۔
چنانچہ یہ ابھی بائیس، پچیس سال کا تھا کہ بالکل بیماریوں کا مجموعہ بن گیا۔ حتیٰ کہ ایک ایسا وقت آیا کہ نہ مال رہا، نہ جائیداد رہی، نہ صحت رہی۔ ساری کی ساری زمین بک گئی۔ بلکہ ایسا بھی وقت آیاکہ جس گھر میں یہ خود رہتا تھا وہ گھر بھی اس کو بیچنا پڑ گیا۔
چنانچہ جب اس نے گھر بیچا اب نوبت آ گئی لوگوں سے مانگ کر کھانے کی۔ جس چوک میں اس کے باپ نے کھڑے ہو کر کہا تھا میری چالیس نسلوں کو پرواہ نہیں۔ یہ بیٹا اسی چوک میں کھڑے ہو کر اللہ کے نام کی بھیک مانگتا تھا۔
عظمت ِ الٰہی کو ہم سامنے رکھیں، کبھی اس کو چیلنج نہ کریں، اپنی اوقات کو پہچانیں۔ جب ہم نے یہ نکتہ سمجھ لیا پھر ہمارے لئے دین پر عمل کرنا بالکل آسان ہو جائے گا۔ ہم کبھی بڑا بول نہیں بولیں گے۔ ہمارے اندر بندگی ہوگی، تواضع ہوگی، خوش اخلاقی ہوگی۔ ہم کسی کے لئے وبال جان نہیں بنیں گے راحت جان بنیں گے۔(ج 29ص208)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more