ایک عاشق کا حج
حضرت حکیم الامت حضرت تھانویؒ فرماتے ہیں:۔ایک قاری صاحب تھے ریاست رامپور میں انہوں نے حج کا ارادہ کیا۔ خرچ پاس نہ تھا۔ سفر شروع کیا۔ دن کو روزہ رکھتے۔ پیدل چلتے اور شام جہاں ہو جاتی ٹھہر جاتے کچھ چنے ساتھ لے لیتے تھے۔ دن کو روزہ رکھتے شام کو ایک مٹھی چنوں سے افطار فرماتے تھے۔ غرض اسی طرح بمبئی پہنچ گئے۔ کوئی جہاز تیار ہوا جہاز کے کپتان سے ملے کہ ہم جدہ جانا چاہتے ہیں اور خرچ ہمارے پاس نہیں ہے۔ ہم کو کوئی نوکری جہاز میں دے دو۔ اس نے نورانی صورت دیکھ کر سمجھا کہ ان کو ایسی نوکری بتائوں جس کو یہ قبول ہی نہ کر سکیں۔ کہا کہ بھنگی کی جگہ خالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے منظور ہے اس نے دیکھا کہ یہ تو اس پر آمادہ ہیں تو اور بات گھڑی کہ محض بھنگی ہی کا کام نہیں اس کے ساتھ بوجھ بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا وہ بھی منظور ہے۔ اس نے کہا کہ اچھا بوجھ اٹھانے میں امتحان دو ایک بورا تھا جس میں اڑھائی تین من وزن تھا کہا کہ اس کو اٹھائو انہوں نے اس بورے کے پاس پہنچ کر حق تعالیٰ سے دعا کہ یہاں تو میرا کام تھا اب آگے آپ کا کام ہے۔ مجھے قوت دے دیجئے پس بسم اللہ کہہ کر بورے کو سر سے اونچا اٹھا لیا تب تو کپتان مجبور ہوا۔ انہوں نے بھنگی کا کام شروع کر دیا۔ شب کے وقت قاری صاحب حسب معمول تہجد پڑھتے۔ ایک روز جہاز کے کنارے پر کھڑے تہجد پڑھ رہے تھے اور اس میں جہر کے ساتھ تلاوت قرآن کر رہے تھے کہ اتفاق سے وہ انگریز کپتان اس طرح آ نکلا۔ قرآن شریف بہت ہی عمدہ پڑھتے تھے۔ انگریز کو سن کر بہت اچھا معلوم ہوا۔ قاری صاحب نے جب سلام پھیر دیا تو اس نے پوچھا کہ تم کیا پڑھتے تھے؟ کہا کہ قرآن ، پوچھا کہ قرآن! کس کو کہتے ہیں؟ کہا کہ ایک کتاب ہے خدا کا کلام ہے۔ اس نے کہا کہ ہم کو بھی سکھا دو انہوں نے کہا ہر شخص نہیں سیکھ سکتا اس کے لئے پاک ہونے کی ضرورت ہے۔ اس نے کہا کہ ہم غسل کر لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ظاہری غسل سے کچھ نہیں ہوتا۔ باطنی غسل کی ضرورت ہے۔ کہنے لگا کہ باطنی غسل کیسے ہوتا ہے۔ فرمایا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھنے سے ہوتا ہے۔ یہ سن کر کہنے لگا کہ ہم کو سکھا دو انہوں نے سکھلا دیا اور وہ اس کو یاد کرتا پھرتا تھا۔ دوسرے انگریزوں نے اس کی میم سے کہہ دیا۔ میم نے پوچھا کیا تم مسلمان ہو گئے؟ کہا نہیں۔ پھر اس نے قاری صاحب سے کہا کہ کیا ہم کلمہ پڑھنے سے مسلمان ہو گئے۔ انہوں نے فرمایا آج کیا؟ مدت ہو گئی۔ اول تو وہ کچھ گھبرایا۔ اس کے بعد کہا کہ اچھا ہم مسلمان ہی ہوتے ہیں۔ اور میم سے کہہ دیا۔ اگر ہمارا ساتھ دینا ہے تم بھی مسلمان ہو جائو۔ اس نے انکار کیا۔ آخر جدہ پہنچ کر اپنے نائب کو چارج دے کر خود قاری صاحب کے ساتھ ہو لیا اور خادموں میں داخل ہو کر حج کو چلا گیا۔ تو حضرت یہ عشق وہ چیز ہے کہ اس میں آدمی آبرو، مال جان غرضیکہ سب کچھ دے بیٹھتا ہے۔ کچھ بھی پرواہ نہیں کرتا۔ ہم میں اسی کی کمی ہے ورنہ جسکے اندر یہ حالت پیدا ہو جائے اس پر خدا کا بڑا فضل ہے۔ (الافاضات الیومیۃ)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

