ایک شرابی کا واقعہ

ایک شرابی کا واقعہ

کتابوں میں ایک شرابی کا واقعہ لکھاہے ، فاسق و فاجر تھا شرابی کبابی تھا۔ محلے والوں نے تہیہ کیا ہوا تھا کہ ہم اس کا نہ جنازہ پڑھیں گے نہ اس کی تدفین میں شریک ہوں گے۔ اللہ کی شان اسے موت آ گئی بیوی نے لوگوں کی منت سماجت کی کہ اللہ کے بندو اس کے جنازے کی فکر کرو انہوں نے کہا کہ شرابی تھا اتنا بدکار آدمی تھا ہم اس کا جنازہ نہیں پڑھتے۔ بڑی پریشان ہوئی چنانچہ اس نے ان کو کہا کہ قبر میں اس کو دفن تو کرنا ہی ہے نا تو تم میرا ساتھ دو کہ میں ایک طرف سے اٹھا لیتی ہوں۔ اس کی چار پائی اٹھا کرقبرستان تو پہنچائو نا وہ کوئی ایک دو قریبی رشتہ دار تھے انہوں نے اس کی مدد کی۔ اس نے جا کر قبر کے قریب چار پائی اس کی ڈال دی پاس بیٹھ گئی یہ تو بیچاری بیوی تھی کیا کرتی اللہ کی شان کہ پہاڑی تھی اور پہاڑی کے اوپر ایک بڑے نیک بزرگ رہ رہے تھے۔ اس نیک بزرگ نے دوپہر کے قیلولہ میں خواب دیکھا کہ اسے کہا گیا کہ میرا ایک بندہ ہے جس کی میں نے مغفرت کردی تم اس کی جنازہ کی نماز پڑھو وہ نیچے اترا اور اس عورت سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ چار پائی پر اس نے کہا کہ میرا خاوند ہے شرابی کبابی تھا اور محلے والے کوئی اس کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہتے اس بزرگ نے کہا اچھا میں اس کا جنازہ پڑھائوں گا تم اطلاع دے دو لوگوں کو جب اس بزرگ کا نام لیا گیا کہ جنازہ پڑھانے کے لئے وہ بزرگ آرہے ہیں تو محلے والے سارے جمع ہو کر آ گئے وہ تو بہت بڑے بزرگ تھے خیر انہوں نے جنازہ کی نماز پڑھائی اور اس طرح بدکارآدمی کو دفن کیا گیا جب دفن کر لیا گیا تو جو بزرگ نیچے اترے تھے انہوں نے اس کی اہلیہ کو کہا کہ مجھے یہ بتائو اس کی کون سی خوبی تھی جو اللہ کو پسند آئی۔ کوئی تو خوبی ہوگی نا جو مجھے یہ اشارہ ہوا اور اس کا جنازہ پڑھانے کا کہا گیا۔ پہلے تو بیوی نے کہا کہ کوئی خوبی نہیں تھی بدکار آدمی تھا شرابی تھا نشے میں مست رہتا تھا۔ جب انہوں نے بار بار کہا تو پھر سوچ کر کہنے لگی! کہ ہاں ایک اس کے اندر خوبی تھی جب صبح کے وقت اس کا نشہ ٹوٹتا تھا تو اس وقت وہ اللہ سے رو کے دعا مانگتا تھا کہ اللہ میں بڑا بدکار ہوںپتہ نہیں تو مجھے جہنم کے کس گوشے میں ڈالے گا اے اللہ میں بہت گنہگار ہوں میں نہیں جانتا کہ تو مجھے جہنم کے کس گوشے میں ڈالے گا ان بزرگوں نے کہا کہ یہ تیرے خاوند کا رونا اللہ کو پسند آ گیا جس کی وجہ سے اللہ نے اس کی بخشش فرمادی۔ تو اللہ رب العزت ہمیں اپنے نفس پر محنت کرنے کی اور نیک بن کر زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔(ج 30ص192)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more