ایک جہاد میں دو صحابہ رضی اللہ عنہما کی تمنائیں
امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ غزوۂ اُحد کے دوران حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ ’’آیئے مل کر دُعا کریں۔۔۔‘‘ میں ان کے ساتھ ہولیا۔۔۔ ہم ایک گوشے میں چلے گئے، وہاں میں نے تو یہ دُعا کی کہ ’’پروردگار! جب کل دشمن سے ہماری جنگ شروع ہو تو میرا مقابلہ کسی ایسے شخص سے کرایئے جو بڑا طاقتور اور ہٹا کٹا ہو، میں اس سے خالص آپ کی خوشنودی کی خاطر لڑوں اور پھر آپ مجھے اس پر فتح نصیب فرمائیں۔۔۔‘‘ حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے اس دُعا پر آمین کہی، پھر خود ان کی دُعا کی باری تھی۔۔۔ اب انہوں نے ان الفاظ سے دُعا فرمائی ’’یا اللہ! مجھے کل کوئی ایسا طاقت ور شخص نصیب فرما جس سے میں آپ کی خوشنودی کی خاطر لڑوں ۔۔۔یہاں تک کہ وہ مجھے پکڑ کر میرے ناک، کان، کاٹے اور پھر جب میں قیامت کے دن آپ سے ملوں تو عرض کروں کہ میرے ساتھ یہ سلوک آپ کی اور آپ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں ہوا اور آپ جواب میں میری تصدیق فرمائیں۔۔۔‘‘ حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کی دُعا میری دُعا سے بہتر تھی۔۔۔ چنانچہ اسی روز جب دن ڈھلا تو میں نے دیکھا کہ ان کی ناک اور کان ایک دھاگے میں لٹکے ہوئے ہیں۔۔۔ (الاصابہ، ص:278، ج2)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

