ایک تاریخی واقعہ
جامع سلیمانیہ کی تعمیر کے دوران یورپ کے کسی ملک (غالباً اٹلی) کے ایک کلیسا نے اپنے ملک کے سرخ سنگ مرمر کی ایک بہترین سل تحفے میں بھیجی، اور یہ خواہش ظاہر کی کہ یہ سل اس مسجد کی محراب میں لگا لی جائے۔۔۔۔ جب سل پہنچی تو زینان معمار نے سلیمان اعظم سے کہا کہ میں یہ سل محراب میں لگانا مناسب نہیں سمجھتا، اگر آپ فرمائیں تو اسے مسجد کے ایک دروازے کی دہلیز میں لگا دیا جائے، سلیمان اعظم نے اس رائے کو پسند فرمایا، اور وہ پتھر دہلیز میں لگا دیا گیا۔۔۔۔
زینان کو یہ شبہ بھی تھا کہ ان اہل کلیسا نے اس پتھر میں کوئی شرارت نہ کی ہو، چنانچہ اس نے ایک روز امتحاناً اس پتھر کو کسی خاص مسالے سے گھسا کر دیکھا کہ اس کے اندر کیا ہے؟ گھسنے کے بعد اسی پتھر کے اندر سیاہ رنگ کی ایک صلیب بنی ہوئی نمودار ہوئی۔۔۔۔ یہ پتھر آج بھی دروازے کی دہلیز میں نصب ہے، اور اس میں صلیب کا نشان آج بھی نظر آتا ہے، جواب قدرے دھندلا گیا ہے، لیکن پھر بھی خاصا واضح ہے، جو اُن اہل کلیسا کے مکروفریب اور مسجد کے معماروں کی فراست و بصیرت کی گواہی دے رہا ہے۔۔۔۔
مسجد کے باہر ایک احاطے میں بہت سی قبریں بنی ہوئی ہیں، جن میں سے ایک قبر سلیمان اعظم کی بھی ہے۔۔۔۔ (عالمی تاریخ جلد۲)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

