ایک بچے کی محبت خداوندی کا عجیب واقعہ

ایک بچے کی محبت خداوندی کا عجیب واقعہ

امام غزالی رحمہ اللہ ایک دفعہ ایک قافلہ کے ساتھ حج بیت اللہ شریف کو جا رہے تھے۔۔۔ اثنائے سفر جہاں قافلہ قیام کرتا ایک دس بارہ سالہ لڑکا بڑے والہانہ اور مجذوبا نہ انداز میں چلتا پھرتا نظر آتا۔۔۔ اکثر میری مجلس میں آتا اور بڑے مؤدبانہ انداز میں بیٹھ کر میری گفتگو سنتا۔۔۔ اس کے اس ذوق و شوق کو دیکھ کر میں نے پوچھ لیا بیٹا !میں تمہیں اکثر تنہا دیکھتا ہوں۔۔۔ اس طویل سفر میں تمہارا سرپرست و سربراہ کون ہے؟
تو وہ بچہ بڑے بے نیازانہ انداز سے گویا ہوا ’’حضرت! جس نے مجھے اپنے گھر بلایا ہے وہی میرا سر پرست و سربراہ ہے۔۔۔ انسانوں میں تو کوئی نہیں‘‘۔۔۔میں نے کہا کہ آخر سواری کا خرچہ اور خوراک وغیرہ کا کیا انتظام ہے؟
کہنے لگا ’’جس کا مہمان ہوں وہی میرا کفیل ہے۔‘‘ امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس بچے کے اس جواب سے مجھے اس کے ایمان و ایقان پر حیرت ہوئی۔۔۔ میں نے سوچا اس بچے کی روحانیت ہم بڑوں کو بھی مات دے گئی۔۔۔ میں نے ارادہ کر لیا کہ اس بچے کی تمام ضروریات اور اخراجات میں خود کیا کروں گا۔۔۔ لہٰذا تمام سفر میں نے اس کا خاص خیال رکھا۔۔۔ اس کو اپنے ساتھ سوار کر لیتا اور اپنے ساتھ ہی کھلاتا پلاتا مگر ہر مرحلہ میں مجھے اسے تلاش کرنا پڑتا۔۔۔ وہ از خود اپنی ضروریات کے لیے کبھی میرے پاس نہ آتا۔۔۔ بس اپنی ہی دھن میں مست رہتا۔۔۔ قافلے سے ذرا ہٹ کر کہیں نہ کہیں نوافل و اذکار میں محو رہتا ۔۔۔ اسی لیے میرے دل میں اس بچے کی کشش بڑھتی گئی۔۔۔ جب مکہ معظمہ پہنچے تو یہی صورت حال تھی۔
میں اُسے تلاش کرکرکے اس کی ضروریات کو پورا کرتا۔۔۔ مکہ ہو کہ منیٰ‘ مزدلفہ ہو کہ عرفات‘ میں بے تابانہ تلاش کرکے اسے ساتھ رکھتا جب قربانی کا دن آیا تو میں نے اپنے لیے جانور خریدا اور قربانی دیدی۔۔۔ پھر میں اس بچے کو تلاش کرتا رہا کہ اسے قربانی کے لیے جانور خرید کردوں۔۔۔۔ تلاش کرتے کرتے آخر وہ نظر آگیا۔۔۔ کیا دیکھتا ہوں کہ میدان میں پڑا رو رہا تھا اور کہہ رہا تھا ’’اے اللہ میرے پاس تو کوئی رقم نہیں کہ میں تمہارے نام پر کوئی جانور خرید کر ذبح کر دوں۔۔۔۔ اے میرے اللہ تو میری جان کی قربانی منظو رکر لے۔۔۔۔ یہ کہتے کہتے اس کی ہچکی بند ھ گئی میں نے جلدی سے اٹھایا اور بیٹھ کر اسے گود میں لے لیا مگر وہ زار و قطار رو رہا تھا۔۔۔ میں نے اسے تسلی دینے کے لیے کہا بیٹا میں تو تمہیں اسی لیے تلاش کر رہا تھا کہ تم میرے ساتھ چلو‘ اپنی پسند کا جانور خرید کر قربانی دیدو۔۔۔ مگر وہ اس قدر درد ناک انداز سے گریہ و بکا کر رہا تھا اور اس کا جسم ایسے کپکپا رہا تھا کہ مجھ سے دیکھا نہ جاتا تھا اور بار بار کہے جاتا تھا ’’اے اللہ میری قربانی قبول فرما لے۔۔۔‘‘ آخر اس نے ایک دل دوزآہ بھری۔۔۔ تڑپا اور پھر ساکت ہوگیا۔۔۔ گویا اللہ تعالیٰ نے اس کی قربانی قبول کر لی۔۔۔ اس کا سر میری گود میں تھا اور میرے آنسو اس کے چہرے پر لگی ہوئی مٹی کو دھو رہے تھے۔۔۔ پھر میں نے ہاتف کی آواز سنی ’’اے غزالی ! اس بچے نے اپنی قربانی پیش کرکے تمام حجاج کے حج قبول کرا لیے ۔۔۔ورنہ ہم کسی ایک کا بھی حج قبول نہ کرتے‘‘۔۔۔میں نے اس عاشق الٰہی کی میت کو کفنا یا دفنا یا اور سوچتا رہا کہ میرے سوا کسی کو یہ خبر نہیں کہ ایک بچے کی قربانی نے لاکھوں حجاج کے حج کو بارگاہ خداوندی میں قبولیت کا پروانہ عطا فرما دیا!۔

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more