ایمان اور اتحاد کی طاقت

ایمان اور اتحاد کی طاقت

حضرت مولانا محمد اسلم شیخوپوری صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔۔۔۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمان متحد رہے، انہیں دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکی، مسلمانوں کو جب بھی شکست ہوئی آپس کی خانہ جنگی اور اختلافات کی وجہ سے ہوئی ہے۔۔۔۔
تمہاری قوم کی تو ہے بنا ہی دین و ایمان پر تمہاری زندگی موقوف ہے تعمیل قرآن پر
تمہاری فتح یابی منحصر ہے فضلِ یزداں پر نہ قوت پر نہ شکوت پر نہ کثرت پر نہ ساماں پر
چناں چہ جب تلک مسلمانوں میں اخوت و محبت اور اتفاق و اتحاد کا یہ رشتہ برقرا ررہا، وہ ساری دنیا پر چھائے رہے اور جب سے انہوں نے ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے اور ایک دوسرے کو گرانے کا عمل شروع کیا ہے، وہ اقوامِ عالم میں ذلیل و خوار ہوتے جا رہے ہیں۔۔۔۔افرادی اعتبار سے دیکھئے تو اس وقت مسلمانوں کی تعداد ایک ا رب سے بھی زیادہ ہے، وسائل کے اعتبار سے دیکھئے تو پیٹرول جیسے سیال سونے کے کنویں زیادہ تر مسلمانوں کے قبضے میں ہیں، معدنیات کے ذخائر اور کانیں بھی اسلامی ممالک میں زیادہ ہیں، مالی اعتبار سے نظر ڈالیں تو اکثر اقوام عالم سے مسلمان قوم زیادہ مال دار ہے۔۔۔۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود مسلمان کمزور اور مغلوب ہیں، آخر کیوں؟
اس کی بڑی وجہ ایمانی کمزوری اور آپس کے لڑائی اور جھگڑے ہیں۔۔۔۔پہلے مسلمانوں کے پاس سونے چاندی کی دولت نہیں تھی، بلکہ ایمان کی دولت تھی۔۔۔۔
ان کے پاس پیٹرول اور معدنیات کے ذخائر نہیں تھے، البتہ اللہ کی ذات پر یقین اور اعتماد کا عظیم ذخیرہ ان کے پاس تھا۔۔۔۔
ان کے پاس جدید اسلحہ اور سازوسامان کی طاقت نہیں تھی، لیکن آپس کے اتفاق و اتحاد کی قوت ان کے پاس تھی۔۔۔۔وہ نہتے تین سو تیرہ تھے، مگر انہوں نے ایک ہزار مسلح اور تجربہ کار لشکر کو شکست دے دی اور ایسا بھی ہوا کہ مسلمان تین ہزار تھے اور انہوں نے دو لاکھ کے لشکر کو شکست دے دی۔۔۔۔آپ نے کبھی کسی دوسری قوم کی تاریخ میں سنا کہ اتنے چھوٹے سے لشکر نے اپنے سے چودہ گنا بڑے مسلح لشکر کو شکست دی ہو؟ مگر مسلمانو! تمہیں اپنی تاریخ پہ ناز بھی ہونا چاہیے اور سبق بھی حاصل کرنا چاہیے کہ جب تمہارے اندر اتفاق تھا تو تمہارے اکابر نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قیادت میں شام کے میدانوں میں دو لاکھ رومیوں کو ان کے اپنے گھر میں جا کر شکست فاش دی۔۔۔۔
اللہ کے بندو! آج تمہاری کمزوری کی وجہ سازوسامان کی کمی نہیں، تمہاری کمزوری کی وجہ توپ و تفنگ اور گولہ بارود کا فقدان نہیں۔۔۔۔ تمہاری کمزوری کی وجہ تربیت یافتہ فوجوں کی قلت نہیں۔۔۔۔تمہاری کمزوری کی وجہ سائنس اور جدید ٹیکنالوجی کا عدم حصول نہیں، تمہاری کمزوری کی وجہ مال و دولت اور سیم و زر کی قلت نہیں۔۔۔۔
بلکہ تمہاری کمزوری کی وجہ ایمان ویقین اور اتفاق و اتحاد کا فقدان ہے۔۔۔۔ کفر کی بڑی بڑی طاقتیں صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے ان کے سازوسامان اور اسلحہ کی وجہ سے نہیں ڈرتی تھیں، بلکہ ان کے یقین محکم اور بے مثال اتحاد کی وجہ سے ڈرتی تھیں جب مسلمانوں میں یہ چیز باقی نہ رہی تو ان کا رعب اور دبدبہ بھی باقی نہ رہا۔۔۔۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

اختلاف کی دو قسمیں

اختلاف کی دو قسمیں حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔علماء کرام میں اگر اختلاف ہو جائے تو اختلاف کی حد تک وہ مضر نہیں جب کہ اختلاف حجت پر مبنی ہو ظاہر ہے کہ ایسی حجتی اختلافات میں جو فرو عیاتی ہوں ایک قدرمشترک ضرور ہوتا ہے جس پر فریقین...

read more

اختلاف کا اُصولی حل

اختلاف کا اُصولی حل محترم پروفیسر ڈاکٹر عبدالرئوف صاحب اپنے رسالہ ’’اِسلامی بینکاری‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:مخلص و محقق اور معتبر اکابر علمائے کرام کے درمیان کسی مسئلہ کی تحقیق کے سلسلے میں جب اختلاف ہوجائے تو بزرگ اکابر حضرات رحمہم اﷲ تعالیٰ کے ارشادات میں مکمل...

read more

ایک ڈاکو پیر بن گیا

ایک ڈاکو پیر بن گیا قطب الارشادحضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ایک مرتبہ اپنے مریدین سے فرمانے لگے تم کہاں میرے پیچھے لگ گئے۔۔۔۔ میرا حال تو اس پیر جیسا ہے جو حقیقت میں ایک ڈاکو تھا۔۔۔۔ اس ڈاکو نے جب یہ دیکھا کہ لوگ بڑی عقیدت اور محبت کے ساتھ پیروں کے پاس...

read more