اہل علم کو مفتی اعظم رحمہ اللہ کی اہم نصیحت

اہل علم کو مفتی اعظم رحمہ اللہ کی اہم نصیحت

ائمہ کرام سے عاجزانہ گزارش ہے کہ اس مضمون کو پڑھنے سے پہلے دو رکعت نفل پڑھ کر خوب گڑ گڑا کر دعا مانگیں کہ اے اللہ! حضرت مفتی اعظم مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کے اس مضمون کو ہمارے دلوں کی گہرائی میں اتار دے اور عملی طور سے ہمیں عوام میں دین پھیلانے کا ذریعہ بنا دے اور ہماری مسجد کے آس پاس تمام گھروں میں پورا کا پورا دین زندہ فرما دے، فرمایا:
’’سیاسی اور اقتصادی میدان اور اعزاز و منصب کی دوڑ میں بے اعتدالیوں کی روک تھام تو سردست ہمارے بس میں نہیں، لیکن خود دین و مذہب کے لیے کام کرنے والی جماعتوں کے نظریاتی اور نظامی اختلافات اشتراک مقصد کی خاطر معتدل کیے جا سکتے ہیں۔۔۔۔ اگر ہم اسلام کے بنیادی اصول کی حفاظت اور الحاد و بے دینی کے سیلاب کی مدافعت کے اہم مقصد کو صحیح معنوں میں مقصد اصلی سمجھ لیں تو یہ وہ نقطہ وحدت ہے کہ جس پر مسلمانوں کے سارے فرقے ساری جماعتیں جمع ہو کر کام کر سکتی ہیں اور اسی وقت اس سیلاب کے مقابلہ میں کوئی مؤثر کام انجام پا سکتا ہے۔۔۔۔لیکن حالات کا جائزہ یہ بتاتا ہے کہ یہ مقصد اصلی ہی ہماری نظروں سے اوجھل ہو گیا ہے اس لیے ہماری ساری توانائی اور علمی و تحقیق کا زور آپس کے اختلافی مسائل پر صرف ہوتا ہے۔۔۔۔ وہی ہمارے وعظوں…، جلسوں…، رسالوں اور اخباروں کا موضوع بحث بنتے ہیں۔۔۔۔
ہمارے اس عمل سے عوام یہ سمجھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ دین اسلام صرف ان دو چیزوں کا نام ہے اور جس رخ کو انہوں نے اختیار کر لیا ہے اس کے خلاف کو گمراہی اور اسلام دشمنی سے تعبیر کرتے ہیں۔۔۔۔ جس کے نتیجہ میں ہماری وہ طاقت جو کفر و الحاد اور بے دینی اور معاشرہ میں بڑھتی ہوئی بے حیائی کے مقابلہ پر خرچ ہوتی، آپس کے جنگ و جدل میں خرچ ہونے لگتی ہے۔۔۔۔
اسلام وا یمان ہمیں جس محاذ پر لڑنے اور قربانی دینے کے لیے پکارتا ہے وہ محاذ دشمنوں کی یلغار کے لیے خالی پڑا نظر آتا ہے۔۔۔۔
ہمارا معاشرہ سماجی برائیوں سے پر ہے۔۔۔۔ اعمال و اخلاق برباد ہیں۔۔۔۔ معاملات و معاہدات میں فریب ہے۔۔۔۔ سود… قمار بازی… شراب… خنزیر… بے حیائی اور بدکاری ہماری زندگی کے ہر شعبہ پر چھا گئے ہیں۔۔۔۔
سوال یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے جائز وارث اور ملک و ملت کے نگہبانوں کو آج بھی اپنے سے نظریاتی اختلاف رکھنے والوں پر جتنا غصہ آتا ہے، اس سے آدھا بھی ان خدا کے باغیوں پر کیوں نہیں آتا؟ اور آپس کے نظریاتی اختلاف کے وقت جس جوش ایمانی کا اظہار ہوتا ہے، وہ ایمان کے اس اہم محاذ پر کیوں ظاہر نہیں ہوتا؟
ہمارا زور زبان اور زور قلم جس شان سے اپنے اختلافی مسائل میں جہاد کرتا ہے اس کا کوئی حصہ سرحدات اور اصولِ ایمانی پر ہونے والی یلغار کے مقابلہ میں کیوں صرف نہیں ہوتا؟ مسلمانوں کو مرتد بنانے والی کوششوں کے بالمقابل ہم سب بنیان مرصوص کیوں نہیں بن جاتے؟
آخر ہم اس پر غور کیوں نہیں کرتے کہ بعثتِ انبیاء علیہم السلام اور نزولِ قرآن کا وہ مقصدِ عظیم جس نے دنیا میں انقلاب برپا کیا اور جس نے غیروں کو اپنا بنایا جس نے اولادِ آدم کو بہیمیت سے نکال کر انسانیت سے سرفراز کیا اور جس نے ساری دنیا کوا سلام کا حلقہ بگوش بنایا۔۔۔۔ کیا وہ صرف یہی مسائل تھے، جن میں ہم الجھ کر رہ گئے ہیں؟
اور کیا دوسروں کو ہدایت پر لانے کا طریق اور پیغمبرانہ دعوت کا یہی عنوان تھا جو آج ہم نے اختیار کر رکھا ہے؟
اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُھُمْ لِذِکْرِاﷲِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ (الحدید:۱۶)
ترجمہ: ’’کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ایمان والوں کے دل اللہ کے ذکر اور اس کے نازل کیے ہوئے حق کی طرف جھک جائیں۔۔۔۔‘‘۔
آخر وہ کون سا وقت آئے گا، جب ہم اپنے نظریات اور نظامی مسائل سے ذرا آگے بڑھ کر اصولِ اسلام کی حفاظت اور بگڑے ہوئے معاشرہ کی اصلاح کو اپنا اصلی فرض سمجھیں گے۔۔۔۔ ملک میں عیسائیت اور کمیونزم کے بڑھتے ہوئے سیلاب کی خبر لیں گے، قادیانیت کے انکار حدیث اور تحریف دین کے لیے قائم شدہ اداروں کا پیغمبرانہ دعوت و اصلاح کے ذریعے مقابلہ کریں گے۔۔۔۔ا
ور اگر ہم نے یہ نہ کیا اور محشر میں ہمارے ماویٰ اور ملجا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ سوال فرما لیا کہ میری شریعت اور میرے دین پر یہ حملے ہو رہے تھے۔۔۔۔ اسلام کے نام پر کفر پھیلایا جا رہا تھا۔۔۔۔ میری امت کو میرے دشمنوں کی امت بنانے کی کوشش مسلسل جاری تھی۔۔۔۔ قرآن و سنت کی کھلے طور پر تحریف کی جا رہی تھی۔۔۔۔
خدا اور رسول کی نافرمانی اعلانیہ کی جا رہی تھی۔۔۔۔ تم مدعیان علم کہاں تھے؟ تم نے اس کے مقابلہ پر کتنی محنت اور قربانی پیش کی؟ کتنے بھٹکے ہوئے لوگوں کو راستے پر لگایا۔۔۔۔ تو آج ہمیں سوچ لینا چاہئے کہ ہمارا کیا جواب ہو گا؟

Most Viewed Posts

Latest Posts

اختلاف کی دو قسمیں

اختلاف کی دو قسمیں حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔علماء کرام میں اگر اختلاف ہو جائے تو اختلاف کی حد تک وہ مضر نہیں جب کہ اختلاف حجت پر مبنی ہو ظاہر ہے کہ ایسی حجتی اختلافات میں جو فرو عیاتی ہوں ایک قدرمشترک ضرور ہوتا ہے جس پر فریقین...

read more

اختلاف کا اُصولی حل

اختلاف کا اُصولی حل محترم پروفیسر ڈاکٹر عبدالرئوف صاحب اپنے رسالہ ’’اِسلامی بینکاری‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:مخلص و محقق اور معتبر اکابر علمائے کرام کے درمیان کسی مسئلہ کی تحقیق کے سلسلے میں جب اختلاف ہوجائے تو بزرگ اکابر حضرات رحمہم اﷲ تعالیٰ کے ارشادات میں مکمل...

read more

ایک ڈاکو پیر بن گیا

ایک ڈاکو پیر بن گیا قطب الارشادحضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ایک مرتبہ اپنے مریدین سے فرمانے لگے تم کہاں میرے پیچھے لگ گئے۔۔۔۔ میرا حال تو اس پیر جیسا ہے جو حقیقت میں ایک ڈاکو تھا۔۔۔۔ اس ڈاکو نے جب یہ دیکھا کہ لوگ بڑی عقیدت اور محبت کے ساتھ پیروں کے پاس...

read more