اہل حق کا معیار
حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔
۔’’جس شخص کے اندر صحابہ رضی اللہ عنہم کی عظمت اور محبت دیکھیں تو سمجھو کہ وہ حق پر ہے۔ اگر محبت نہیں بلکہ انہیں سب شتم کرتا ہے یا انہیں گالی گلوچ دیتا ہے تو اس سے اندازہ ہو گا کہ وہ ناحق پر ہے‘ وہ حقانی نہیں کہلائے گا۔ اسی طرح جو طبقہ یہ کہے کہ معاذ اللہ ان میں تو منافق بھی تھے‘ غلط کار بھی تھے تو سمجھ لیجئے کہ وہ ناحق پر ہے۔
اسی طرح جو یوں کہے کہ ہم معیار ہیں صحابہ رضی اللہ عنہم معیار نہیں ہم ان پر نقد و تبصرہ کر سکتے ہیں وہ ہم پر نہیں کر سکتے ہیں تو سمجھ لو کہ یہ بطلان کی بات ہے کوئی حقانیت کی بات نہیں ہے۔
غرض ایک سیدھا سا معیار فرقوں کے حق و باطل اور خطاء و صواب کے پہچاننے کا بتلا دیا کہ مجھے دیکھ لو اور میرے صحابہ کو دیکھ لو۔‘‘۔
(ماخوذ از خطبات حکیم الاسلام)
