اہل بدعت اورخلاف مسلک لوگ جو عبادت گزار ہوں ان کی شخصیات کے معاملہ میں احتیاط

اہل بدعت اورخلاف مسلک لوگ جو عبادت گزار ہوں ان کی شخصیات کے معاملہ میں احتیاط

اکابر دیو بند کی جس طرح مسائل میں حق گوئی اور صاف گوئی معروف و مشہور ہے جس کو سب جانتے ہیں ۔ اسی طرح ان کے تقویٰ اور تواضع کا ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کو بہت کم لوگ جانتے ہیں وہ یہ کہ مسئلہ میں تو کسی کی رعایت نہیں۔ اپنے نزدیک جو حق بات ہے وہ صاف کہہ دیں لیکن اس کے خلاف کرنے والے حضرات کی شخصیات اور ذاتیات پر گفتگو آئے تو اس میں بڑی احتیاط کرتے ہیں۔ ان کی بدگوئی سے خود بھی احتیاط کرتے ہیں دوسروں کو بھی احتیاط کی تلقین کرتے ہیں جس پر ان کی زندگی کے واقعات بکثرت شاہد ہیں اسی سلسلے کا ایک واقعہ یہ ہے کہ:
حضرت مولانا محمد قاسم رحمہ اللہ سے کسی نے کہا کہ میرٹھ کے مولانا عبدالسمیع صاحب بیدل بکثرت میلاد پڑھتے اور پڑھواتے ہیں آپ کیوں نہیں کرتے۔ فرمایا کہ بھائی ان کو حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا درجہ حاصل ہے دعاء کرو مجھے بھی وہ حاصل ہو جائے۔(ملفوظ حکیم الامت 12رمضان 1345ھ)
یہ سوال چونکہ دوسرے ایک عالم کی شخصیت اور اپنی ذلت کے تقابل کا تھا اس لئے اس وقت کسی مسئلہ کی تحقیق کی جاتی تو وہ اپنے نفس کی طرف سے مدافعت اوردوسرے عالم کی شخصیت پر جرح ہوتی اس سے اجتناب فرمایا اور تواضع کا پہلو اختیار کیا۔
اگر صرف مسئلہ پوچھا جاتا کہ مروجہ قسم کی محفل میلاد کا کیا حکم ہے تو وہی فرماتے جو ان کی تحریرات اور فتاویٰ میں مذکور ہیں۔
ایک مشہور پیر صاحب بازاری عورتوں کو بھی مرید کرلیتے تھے ۔ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی مجلس میں کچھ لوگ ان کو برا کہنے لگے تو حضرتؒ نے بہت خفا ہو کر فرمایا کہ تم نے ان کا عیب تو دیکھ لیا یہ نہیں دیکھا کہ وہ راتوں کو اللہ کے سامنے عبادت گزاری اور گریہ و زاری کرتے ہیں۔ لوگوں کو خاموش کردیا اور اشارہ اس بات کی طرف کیا کہ کسی شخص کے اچھے عمل کو اچھا اور برے کو برا کہہ دینا تو دینی حق ہے لیکن کسی شخص کو برا یا بھلا اس کے مجموعہ اعمال کی بناء پر کہا جاسکتا ہے۔جس کا عموماً لوگوں کو علم نہیں ہوتا اس لئے کسی شخص کی ذات کو برا کہنے میں بہت احتیاط چاہیے۔
حضرت مولانا نانوتویؒ کے خاص بے تکلف مرید امیر شاہ خان نے ایک مرتبہ فضل رسول صاحب جو اس زمانے کے اہل بدعت میں سے تھے ۔ ان کا نام بگاڑ کر فضل رسول کے بجائے فصل رسول حرف صاد کے ساتھ کہا حضرتؒ نے ناراض ہو کر سختی سے منع فرمایا کہ وہ جیسے بھی کچھ ہوں تم تو آیت قرآن ’’ولا تنابزوا بالالقاب‘‘ کے خلاف کر کے گنہگار ہو ہی گئے۔ ایک معروف و مشہور اہل بدعت عالم جو اکابر دیو بند کی تکفیر کرتے تھے اور ان کے خلاف بہت سے رسائل میں نہایت سخت الفاظ استعمال کرتے تھے۔ ان کا ذکر آگیا تو فرمایا میں سچ عرض کرتا ہوں کہ مجھے ان کے متعلق معذب ہونے کا گمان نہیں ۔ کیونکہ ان کی نیت ان سب چیزوں سے ممکن ہے کہ تعظیم رسول ہی کی ہو۔(ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر ۲۴)

Most Viewed Posts

Latest Posts

تقلید کا دور کبھی ختم نہیں ہو سکتا

تقلید کا دور کبھی ختم نہیں ہو سکتا حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔۔’’اجتہاد فی الدین کا دور ختم ہو چکا توہو جائے مگر اس کی تقلید کا دور کبھی ختم نہیں ہو سکتا‘ تقلید ہر اجتہاد کی دوامی رہے گی خواہ وہ موجودہ ہو یا منقضی شدہ کیونکہ...

read more

طریق عمل

طریق عمل حقیقت یہ ہے کہ لوگ کام نہ کرنے کے لیے اس لچر اور لوچ عذر کو حیلہ بناتے ہیں ورنہ ہمیشہ اطباء میں اختلاف ہوتا ہے وکلاء کی رائے میں اختلاف ہوتا ہے مگر کوئی شخص علاج کرانا نہیں چھوڑتا مقدمہ لڑانے سے نہیں رکتا پھر کیا مصیبت ہے کہ دینی امور میں اختلاف علماء کو حیلہ...

read more

اہل علم کی بے ادبی کا وبال

اہل علم کی بے ادبی کا وبال مذکورہ بالا سطور سے جب یہ بات بخوبی واضح ہوگئی کہ اہل علم کا آپس میں اختلاف امر ناگزیر ہے پھر اہل علم کی شان میں بے ادبی اور گستاخی کرنا کتنی سخت محرومی کی بات ہے حالانکہ اتباع کا منصب یہ تھا کہ علمائے حق میں سے جس سے عقیدت ہو اور اس کا عالم...

read more