اکابر کے باہمی خلوص کا یادگار واقعہ

اکابر کے باہمی خلوص کا یادگار واقعہ

بعض لوگوں نے امیر شریعت حضرت شاہ جی سے عرض کیا کہ حضرت مدنی اور حضرت تھانویؒ میں سیاسی اختلاف ہے اور آپ کا تعلق حضرت مدنی سے ہے یہاں کے لوگ تو دونوں کو سگے بھائی سمجھتے ہیں لیکن شاید آپ کی سوچ اس سے کچھ مختلف ہے! شاہ جی رحمہ اﷲ بے ساختہ بولے لاحول ولا قوۃ الا باﷲ میرے تو وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں ’’اب شاہ جی نے اصاغر کے ذہنوں میں اکابر کے تعلقات کے بارے میں سوء ظن کا یہ کیسا بہترین علاج کیا ۔ شاہ جی رحمۃ اﷲ علیہ نے ایک خادم سے فرمایا کہ ’’حضرت کی خدمت میں ہدیہ پیش کرنے کیلئے دس سیر مٹھائی لائو ‘‘۔
میں نے عرض کیا کہ ’’یہ خیال رکھئے کہ حضرت ہدیہ قبول نہیں فرماتے‘‘ شاہ جی رحمۃ اﷲ علیہ نے وفورِ خلوص میں داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور کہا کہ میں قبول کرواکے چھوڑوں گا ۔ بہرکیف شاہ جی اپنی قیام گاہ پر تشریف لے گئے اور میں مدرسہ لوٹ آیا ۔نظارہ ملاقات کے اشتیاق نے ڈھنگ سے سونے بھی نہ دیا اور میں صبح کی گاڑی سے تھانہ بھون پہنچ گیا ۔
کچھ ہی دیر بعد بارہ بجے کی گاڑی سے شاہ جی تشریف لے آئے ۔قلی سامان اٹھائے ہوئے ساتھ تھا ۔منزل پر پہنچ کر شاہ جی رحمۃ اﷲ علیہ نے اسے چونی دی وہ کہنے لگا ’’میری اجرت دو آنہ ہے‘‘ شاہ جی نے کہا تم چونی رکھ لو وہ کہنے لگا نہیں میں دو آنے ہی لوں گا‘‘ اور پھر بازار سے چونی بھنا کر لایا اور دو آنے لے کر چلا گیا ۔واہ قلی کیا تھا ایک غیرت کا پیکر تھا ۔
اب شاہ جی رحمۃ اﷲ علیہ خانقاہ میں داخل ہوئے ۔حضرت حوض پر ہی قیام فرما تھے ۔ مصافحہ و سلام کے بعد حضرت نے حسب عادت پوچھاکون ہو؟ کہاں سے آئے ہو؟
عرض کی عطاء اﷲ نام ہے ۔اس وقت سہارن پور سے آرہا ہوں ایک عرصہ سے حضرت کی زیارت کا اشتیاق تھا ۔الحمدﷲ آج اﷲ تعالیٰ نے دیرینہ آرزو پوری فرمادی ۔
فرمایا ’’مولانا سید عطاء اﷲ شاہ صاحب؟
‘‘ عرض کی ’’لوگ یوں کہہ دیتے ہیں‘‘ فرمایا اپنے منہ سے کہو‘‘ عرض کی ’’حضرت میں اپنے منہ سے کیسے کہہ سکتا ہوں‘‘ حضرت کے ہاں تو قدم قدم پر اصلاح جاری رہتی تھی ۔ فرمایا تعریفاً کہنا تو جائز نہیں لیکن تعارفاً کہنے میں تو کوئی حرج نہیں ‘‘۔
بہرکیف دونوں حضرات تشریف فرما ہوئے مزاج پرسی کے بعد شاہ جی رحمۃ اﷲ علیہ نے عرض کی ’’حضرت! یہ گھیور بطور ہدیہ لایا ہوں ‘‘ فرمایا ’’میں پہلی ملاقات میں ہدیہ نہیں لیا کرتا ‘‘ عرض کیا ’’میرے والد صاحب نے مجھے وصیت کی تھی کہ جب بھی کسی بزرگ کے پاس جائو تو کچھ نہ کچھ ہدیہ لے کر جائو اس لئے قبول فرمالیجئے ’’فرمایا ’’میرے ابا کی وصیت یہ ہے کہ پہلی ملاقات میں کسی سے ہدیہ قبول نہ کرنا ۔آپ کو اپنے ابا کی وصیت کا احترام ہے تو مجھے اپنے ابا کی وصیت کا پاس ہے ۔الغرض کچھ دیر اسی طرح اصرار وانکار ہوتا رہاپھر حضرت نے فرمایا ’’میں اب گھر جاتا ہوں اور آپ کے لئے کھانا بھیجتا ہوں کھانا کھایئے آرام کیجئے اور ان کا جواب سوچ رکھئے ان شاء اﷲ ظہر کے بعد ملاقات ہوگی ۔
ظہر کے بعد مجلس عام میں حضرت حکیم الامت رحمۃ اﷲ علیہ کی نوازشیں اور شاہ جی رحمۃ اﷲ علیہ کی کیفیت کا منظر دیدنی تھا ۔شاہ جی رحمۃ اﷲ علیہ نے پوری محفل کو کشتِ زعفران بنادیا ۔ہدیہ قبول کرنے کے سلسلہ میں پھر اصرار وانکار ہوا ۔آخر حضرت نے فرمایا کہ میں آپ کو اس کا جواب بتلاتا ہوں ۔آپ والد صاحب کا حوالہ مت دیجئے بلکہ یوں کہئے کہ ’’میں عطاء اﷲ شاہ تمہیں حکم دیتا ہوں کہ ہدیہ قبول کرلو ۔ ‘‘ پھر میں رکھ لوں گا اور یہ تصور کروں گا کہ عالم تھے آل نبی صلی اﷲ علیہ وسلم تھے ۔اس لئے ان کا حکم ٹال نہ سکا۔ شاہ جی رحمۃ اﷲ علیہ نے پھر اپنے منہ سے یہ نہ کہا بلکہ یوں عرض کی کہ حضرت ۔ جب آپ نے کہہ ہی دیا ہے تو اب قبول فرمالیجئے ۔خیر ہدیہ قبول ہوا اور اگلے روز شاہ جی واپس سہارن پور تشریف لے گئے ۔(یادگار ملاقاتیں )

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more